Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے موافق نظر آتے۔ ضرورت تھی کہ ان مثبت عوامل کو اسلام کے حق میں حقیقت پسندی اور حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ مگر مقلدانہ ذہن ہر نئی چیز سے بھڑکتا ہے، خواہ وہ عین اس کی اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ یہی مقلدانہ نفسیات موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لیے نئی چیزوں کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ چند متفرق مسائل 1۔ جدید مسائل میں سے ایک مسئلہ قومیت کا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ قومیت کا جدید تصور اسلام کے روایتی تصورِ قومیت سے ٹکراتا ہے۔ اسلام کے روایتی تصور میں امت مسلمہ ایک عالمی وحدت کا نام ہے۔ ہر جگہ کے مسلمان یکساں طور پر وحدتِ ملی کا جزء ہیں۔ جب کہ جدید تصورِ قومیت میں قوم (نیشن) کو جو چیز متعین کرتی ہے وہ جغرافی حدود ہیں۔ زیادہ گہرائی سے دیکھیے تو یہ بحث بھی غیر ضروری معلوم ہوگی۔ اسلام کی پوری تاریخ میں اس قسم کا رومانی تصور قومیت کبھی بھی رائج نہیں رہا ہے۔ ابتدائی ہزار سال تک مسلمان سیاسی وحدتوں کے اعتبار سے الگ الگ مجموعوں میں بٹے ہوئے تھے۔ مثلاً بغداد کی عباسی سلطنت میں بسنے والے مسلمان اگر ایک وحدت تھے تو قرطبہ کی اموی سلطنت میں بسنے والے مسلمان دوسری وحدت تھے۔ آج بھی پاکستان کے مسلمان ایک الگ سیاسی وحدت ہیں اور بنگلہ دیش کے مسلمان دوسری علیحدہ وحدت، وغیرہ۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانہ میں قومیت کے تصور میں جو فرق ہوا ہے وہ کلی طور پر کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ ایک لفظی فرق کی بات ہے۔ پہلے اگر سیاسی نظام وحدت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا تو اب جغرافی حدود کو وحدت کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ ایک ظاہری فرق کی بات ہے، نہ کہ حقیقی فرق کی بات۔ اس سلسلہ میں ابن خلدون کا نظریہ مجھے نہایت صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page