چند متفرق مسائل
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
اہل اسلام کا اتحاد سیاسی وحدت پر مبنی نہیں ہے، وہ روحانی وحدت پر مبنی ہے۔ یعنی اسلامی اتحاد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک حکومت کے تحت متحد ہو گئے ہوں۔ عملی ضرورت کے تحت وہ الگ الگ سیاسی وحدتوں میں منقسم رہیں گے۔ لیکن اسی کے ساتھ فکری اور روحانی اشتراک انھیں وحدت ملی کا احساس عطا کرتا رہتا ہے۔ 2_ موجودہ زمانہ میں بظاہر جو چیزیں اسلام سے متصادم نظر آتی ہیں ان میں سے ایک آزادی رائے کا نظریہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتا ہے۔ جدید نظریہ کے مطابق ہر فرد کو غیر مشروط طور پر آزادی رائے کا حق حاصل ہے۔ اس کی حد صرف یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے عملی ضرر کا سبب نہ بنے۔ اس حد بندی میں یقینی طور پر جذبات کا مجروح ہونا شامل نہیں۔ یہ مسلمانوں کے لیے سخت برہمی کا باعث رہا ہے اور ہے۔ کیوں کہ اس حق کی بنا پر تنقیص اسلام یا اہانت رسول کوئی ممنوع چیز نہیں رہتی اور نتیجتاً "سلمان رشدی" جیسے واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر یہ زیادہ قابل لحاظ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے "آزادی رائے" کے مائنس پوائنٹ کو دیکھا مگر وہ اس کے پلس پوائنٹ کو نہ دیکھ سکے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں مائنس پوائنٹ اگر ایک فیصد ہے تو پلس پوائنٹ اس کے مقابلہ میں 99 فیصد ہے۔ اس معاملہ کو تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو آزادی رائے کا حق خود مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت بن کر ظاہر ہوا تھا۔ کیوں کہ جدید تہذیب سے پہلے تاریخ کے تمام ادوار میں ساری دنیا میں جبر کا نظام قائم تھا۔ آزادی اس حد تک معدوم تھی کہ اسٹیٹ کی رائے کے خلاف کسی اور رائے کا اظہار کرنے کی قیمت یہ دینی پڑتی تھی کہ آدمی کو قتل کر دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader