Urdu book · فکر اسلامی

چند متفرق مسائل

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

اس صورتِ حال نے دینِ حق کی آزادانہ اشاعت کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اظہارِ رائے کی موجودہ آزادی اہلِ اسلام کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے لیے تبلیغ و دعوت کے بند راستہ کو لامحدود طور پر کھول دینے والا ہے۔ اب اگر سلمان رشدی جیسے کچھ مظاہر پیدا ہو رہے ہوں تو ہم کو اسے اس نظر سے دیکھنا چاہیے جس طرح ایک کسان بارانِ رحمت میں کیچڑ کے مسئلہ کو دیکھتا ہے۔ بارش میں اگرچہ بعض اوقات کیچڑ کے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر بارش کے عظیم فائدوں کے مقابلہ میں اس جزئی مسئلہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ موجودہ زمانہ میں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے افراد کے خلاف مسلمانوں کے شدید ردعمل کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ آزادیِ رائے کے جدید مواقع کو دعوت کے لیے استعمال نہیں کر رہے تھے۔ اگر وہ ان مواقع کو دعوت دین کے لیے استعمال کر رہے ہوتے تو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے افراد کو وہ اسی طرح نظر انداز کر دیتے جس طرح کسان کیچڑ کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔ 3۔ دورِ جدید کے فکری مسائل میں سے ایک وہ ہے جو سیکولرلزم کی نسبت سے پیدا ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسٹیٹ پالیسی کے لیے سب سے زیادہ مقبول اور مستند نظریہ وہی ہے جس کو عام طور پر سیکولرلزم کہا جاتا ہے۔ کسی اسٹیٹ کا سیکولر ہونا اس کے ترقی یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ اور اس کا غیر سیکولر ہونا اس کے غیر ترقی یافتہ ہونے کی علامت۔ مسلمانوں کا ایک گروہ، خاص طور پر اسلام پسند طبقہ سیکولرلزم کے سخت خلاف رہا ہے۔ وہ اس کو ایک اسلام دشمن نظریہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سیکولرلزم کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو غیر مذہبی اور خالص دنیوی بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ اس طرح وہ اسلام کی نفی بن جاتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست کو وحی الہیٰ کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page