چند متفرق مسائل
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے اس رائے سے اتفاق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اسلام پسند حضرات کی یہ رائے سیکولرزم کے انتہا پسند نمایندوں کی رائے کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ مگر یہ ایسی ہی غلطی ہے جیسے کچھ غیر مسلم دانشور انتہا پسند مسلم نوجوانوں کے جنگ جویا نہ خیالات کو لے کر اس کی بنیاد پر اسلام کی تصویر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیکولرزم کے بارے میں وہی رائے درست ہے جو انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس (Encyclopedia of Religion and Ethics) میں دی گئی ہے۔ اس کے مطابق، سیکولرزم کسی مذہب مخالف نظریہ کا نام نہیں، وہ اس بات کا نام ہے کہ اسٹیٹ اپنے آپ کو اس کا پابند بنا لے کہ وہ شہریوں کے مذہبی معاملات میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے گی (دیکھیے، انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس، جلد 11، سیکولرزم)۔ یہ دراصل ایک عملی بندوبست کی بات ہے، نہ کہ کوئی مقدس نظریہ۔ اپنی روح کے اعتبار سے یہ صلح حدیبیہ جیسا ایک عملی حل ہے۔ اور وہ اہل اسلام کے عین حق میں ہے۔ سیکولرزم نے تاریخ میں پہلی بار اہل توحید کو یہ موقع دیا کہ ریاست کی طرف سے تعذیب (Persecution) کا خطرہ مول لیے بغیر اپنے عقائد کی آزادانہ تبلیغ کریں۔ جہاں تک اسلامی حکومت کا تعلق ہے تو وہ ”اسلامی حکومت قائم کرو“ کے نعرہ سے قائم نہیں ہوتی۔ پاکستان کی مثال اس کا واضح ثبوت ہے۔ سیکولرزم کا اصول ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم آزادانہ طور پر ساری دنیا میں اسلام کی پرامن اشاعت کریں۔ اس عمل کے نتیجہ میں کسی سماج کی اکثریت میں اگر اسلامی حکومت کی طلب پیدا ہو جائے تو وہاں اسلام کی حکومت بھی قائم ہو سکتی ہے۔ اور اسلام کی حکومت ہمیشہ سماجی طلب کی بنیاد پر ہی قائم ہوتی ہے وہ مطالبا تی سیاست کے ذریعہ کبھی قائم نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader