چند متفرق مسائل
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
4۔ ایک مسئلہ وہ ہے جس کا تعلق جہاد سے ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ ساری دنیا سے لڑ کر انھیں مجبور کریں کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا اسلامی قانون کے ماتحت ہو کر ذمی کی حیثیت سے زندگی گزاریں۔ اسلامی جہاد کا یہ تصور دور جدید کے اس متفقہ بین الاقوامی تصور سے ٹکراتا ہے کہ ہر ملک پر لازم ہے کہ وہ دوسرے ملک کی سرحدوں کا احترام کرے، اور کوئی قوم کسی دوسری قوم کے معاملہ میں مداخلت نہ کرے ۔ مگر جہاد کے اس تصور کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ یا تو بعض انتہا پسند مسلم نظریہ سازوں کی اختراع ہے یا غیر مسلم دانشوروں کا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ قرآن کے مطابق جہاد (بمعنی قتال) کی صرف دو قسمیں ہیں: 1۔ ایک استیصال فتنه کے لیے : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (193:8:39)۔ یعنی، اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ 2۔ اور دوسری دفاع کے لیے : وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ (2:190)۔ یعنی، اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ فتنہ سے مراد اُردو معنی میں ”فتنہ و فساد نہیں ہے۔ اس سے مراد مذہبی تعذیب (religious persecution) ہے ۔ قدیم زمانہ میں عرب میں اور ساری دنیا میں یہ فتنہ موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اور صحاب رسول کو حکم دیا کہ اس کے خلاف جدوجہد کر کے اس مصنوعی رکاوٹ کا خاتمہ کر دو۔ چنانچہ انھوں نے اس کا مقابلہ کر کے اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ۔ اب اس فتنہ کا دنیا میں کہیں وجود نہیں ہے ۔ اس لیے اب اس نوعیت کے جہاد کی ضرورت بھی نہیں۔ دفاع کے لیے جہاد کا حکم اب بھی باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ تاہم دفاعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader