تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
نتیجہ نہ تھا۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تمام تر خود ساختہ سیاسی بغاوت کی بنا پر ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھنے کی بنا پر۔ یہ مفکرین در اصل مجتہدانہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے قدیم و جدید کے فرق کو سمجھ نہ سکے اور انہوں نے انتہائی غیر ضروری طور پر جدید مسلم نسلوں کو تشدد کے غار میں دھکیل دیا۔ اصل یہ ہے کہ دورِ اول کے اسلامی انقلاب کے بعد تاریخ انسانی میں ایک نیا عمل جاری ہوا۔ یہ جمہوریت اور آزادی کا عمل تھا۔ یہ اس دور کو ختم کرنے کا عمل تھا جس کے تحت ملک کے ہر فرد کے لیے حکمرانوں کے مذہب کو ماننا ضروری تھا۔ جو آدمی حکمراں کے مذہب کو نہ مانے اس کو مذہبی تعذیب (religious persecution) کا شکار ہونا پڑتا تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں صرف موحدین ہی حکمرانوں کے ظلم کا شکار نہیں بنے بلکہ ہر اس مذہب کے ماننے والوں کو اقتدار کی طرف سے ظلم کا نشانہ بنایا گیا جو ان سے الگ اپنا کوئی مذہبی عقیدہ رکھتا تھا۔ مثلاً شام و فلسطین کے علاقہ میں یہودی حاکموں نے عیسائیوں پر ظلم کیا۔ اس کے بعد عیسائی بادشاہوں نے یہودیوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح ہندوستان میں مشرک راجاؤں نے بدھوں پر زبردست مظالم کیے، وغیرہ: Religious persecutions have affected members of all the major religions. (Encyclopedia Britannica, 1984, vol. VII, p. 888) اسلام کے دور اول میں جو عظیم انقلاب آیا اس نے اصولی طور پر اس مذہبی تعذیب کا خاتمہ کر دیا۔ تاہم اس قسم کی عمومی برائی کبھی یک لخت ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ تدرج کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ چنانچہ اسلامی انقلاب نے جب اس کے خاتمہ کا اصولی اعلان کیا اور اس کی بنیاد پر اپنے دائرہ میں ایک عملی نظام بھی بنا دیا تو اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ خود تاریخ انسانی میں ایک عملی پر اس کے طور پر شامل ہو گیا۔ یہ پر اس مسلسل چلتا رہا۔ یہاں تک کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader