چند متفرق مسائل
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد شروع کرنے کے لیے بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ جب تک یہ شرطیں پوری نہ ہوں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دفاع کے نام پر بطورِ خود کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ ان دو صورتوں کے سوا کوئی بھی تیسری صورت نہیں ہے جس کے لیے اسلام میں جہاد (بمعنی قتال) کسی کے لیے جائز ہو۔ 5۔ ایک بے حد نزاعی مسئلہ بینک کے سود کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں تمام اقتصادی سرگرمیوں کا تعلق بینک سے ہو گیا ہے جو سود کے اصول پر کام کرتا ہے۔ مسلمان سود کو حرام سمجھنے کی وجہ سے بینک سے معاملہ نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی تمام بڑی بڑی اقتصادی سرگرمیوں سے مسلمان بالکل الگ ہو گئے ہیں۔ جدید انڈسٹری میں مسلمانوں کا کوئی مقام نہیں۔ اور انڈسٹری میں بے جگہ ہونے کی بنا پر اور بھی بہت سے شعبوں میں وہ بے جگہ ہو گئے ہیں۔ مثلاً صحافت میں۔ موجودہ زمانہ میں صحافت ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ مگر صحافت میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت کو انڈسٹری سے غذا ملتی ہے۔ مسلمانوں کے پاس انڈسٹری نہیں، اس لیے ان کی کوئی صحافت بھی نہیں۔ اس معاملہ میں کوئی حتمی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ یہ مسئلہ ایسا ہے جس کو علما کی شوریٰ میں اجتماعی فیصلہ سے طے کیا جانا چاہیے۔ تا ہم میں یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ اس معاملہ میں کچھ لوگوں کی یہ تجویز قابلِ غور ہے کہ بینک کا انٹرسٹ کمرشل انٹرسٹ ہوتا ہے اور ہم کو کمرشل انٹرسٹ اور حاجاتی سود (usury) میں فرق کرنا چاہیے۔ حاجاتی سود یک طرفہ نفع اندوزی پر مبنی ہے۔ اور اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔ لیکن کمرشل انٹرسٹ نفع میں شرکت (profit sharing) کے اصول پر مبنی ہے۔ اس اعتبار سے وہ ایک حد تک مضاربت کے اسلامی اصول سے مشابہت رکھتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader