Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

مضاربت میں نفع اور نقصان دونوں میں شرکت ہوتی ہے اور بینک میں صرف نفع میں شرکت۔ لیکن مضاربت اگر کامیاب اصول ہے تو وہ اسی لیے کامیاب اصول ہے کہ اس میں زیادہ امکان نفع کا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر نقصان کا اندیشہ بڑھ جائے تو مضاربت کا اصول عملاً معطل ہو جائے گا۔ اس پہلو کو سامنے رکھا جائے تو مضاربت اور کمرشیل بینکاری کا فرق زیادہ تر جزئی اور اضافی بن جاتا ہے، نہ کہ کلی اور حقیقی۔ رواج عام کا حکم ہندوستان میں پہلی بار برٹش دور میں سونے چاندی کے سکوں کی جگہ کاغذی نوٹ چلائے گئے ۔ اس وقت مولانا عبد الحق حقانی زندہ تھے۔ کسی نے اس کے بارے میں مولانا حقانی کا فتویٰ پوچھا۔ انھوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا: میرا فتویٰ نہیں چلے گا، اور نوٹ چل جائے گا۔ خالص فقہی نظر سے دیکھنے میں کاغذی نوٹ کے بارے میں جواز اور عدم جواز کا مسئلہ پیدا ہوتا تھا۔ مگر مولانا عبد الخالق حقانی نے براہِ راست اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔ کیونکہ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ عمومی رواج کی صورت ہے اور عمومی رواج میں ہمیشہ رواج چلتا ہے، نہ کہ مفتی کا فتویٰ۔ مجھے یاد آتا ہے کہ اگست 1982 ء ایک بیرونی سفر کے دوران میرا ساتھ پروفیسر مشیر الحق مرحوم سے ہو گیا تھا۔ مولانا محمد تقی امینی مرحوم (1991-1926) بھی اس سفر میں شریک تھے۔ ایتھنز کے ہوائی اڈے پر ہم لوگ کھانے کی میز پر تھے۔ جب کھانا لایا گیا تو اس میں گوشت بھی تھا۔ میں اور مولانا تقی امینی اس پر بات کرنے لگے کہ غیر ذبیحہ جائز ہے یا نا جائز۔ ابھی ہماری بحث ختم نہیں ہوئی تھی کہ پروفیسر مشیر الحق نے کہا: آپ لوگ بحث کرتے رہے، میں تو بسم اللہ کہہ کر شروع کر رہا ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page