Urdu book · فکر اسلامی

رواج عام کا حکم

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جن کا تعلق، کم از کم موجودہ حالات میں اجتماعی فتوٰی سے نہیں ہے بلکہ انفرادی ضمیر سے ہے۔ مثلاً ٹائلٹ سوپ کا استعمال جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کو بنانے میں اکثر حیوانی چربی شامل ہوتی ہے یا لیدر گارمنٹ جس کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے بنانے میں بعض اوقات خنزیر کے کھال کے اجزاء بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ وغیرہ۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جن کی حیثیت موجودہ زمانہ میں رواج عام کی ہوگئی ہے۔ ان میں مفتی کا فتویٰ یا تو غیر مؤثر ہے یا عملی اعتبار سے لوگوں کو ایک ایسی تنگی میں ڈالنا ہے جس کو وہ برداشت نہ کرسکیں۔ اور پھر یا تو علی الاعلان دین سے بغاوت کردیں، یا دو عملی کا طریقہ اختیار کرلیں اور منافق بن کر رہیں۔ اس لیے عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ ایسے امور میں فتویٰ نہ دے کر لوگوں کو ان کے اپنے ضمیر کے حوالے کردیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس اصول کی اصل سنت نبویؐ میں موجود ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض سوالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو آپ نے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ یہ فرمایا کہ تم اپنے دل سے فتویٰ پوچھ لو (اسْتَفْتِ قَلْبَكَ) مسند احمد، حدیث نمبر 18006۔ جب کہ دوسرے بہت سے معاملات میں آپ متعین طور پر شرعی حکم کا اظہار فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معاملات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک معاملہ وہ ہے جس میں اسْتَفْتِ الْمُفْتِيَ کا اصول مطلوب ہے۔ یعنی مفتی اور عالم کے سامنے مسئلہ رکھ کر اس سے جواب معلوم کرنا، اور اس کے مطابق عمل کرنا۔ دوسرے قسم کے معاملات وہ ہیں جن میں اسْتَفْتِ الْقَلْب کا اصول مطلوب ہے۔ یعنی لوگ اپنے ضمیر اور عقل عام (کامن سنس) کو استعمال کریں اور جو مسلک انھیں درست معلوم ہو اس کو اختیار کرلیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page