Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کہنا غالباً صحیح ہوگا کہ مذکورہ قسم کے معاملات، کم از کم موجودہ حالات میں استفت القلب کی نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان معاملات میں ہمیں لوگوں کو رخصت دینے کا اصول اختیار کرنا ہے، نہ کہ انھیں کسی ایک مسلک کا پابند بنانے کا۔ جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے اجتہاد سے محرومی کا سب سے بڑا نقصان جو ہمارے حصہ میں آیا ہے، وہ یہ کہ امت مسلمہ دورِ جدید کے قیمتی مواقع سے واقف نہیں ہوئی، اور اس بنا پر ان کو استعمال بھی نہ کرسکی۔ ان جدید مواقع کو جاننے کے لیے مجتہدانہ عمل کی ضرورت تھی۔ جمود ذہنی کے نتیجہ میں چونکہ مجتہدانہ عمل ختم ہو گیا تھا۔ اس لیے جدید مواقع کی دریافت اور ان کا استعمال بھی ہمارے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طاقت کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے تمام زمانوں میں تشدد کو طاقت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم قدیم ترین زمانہ سے ایسے افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جو یہ چاہتے تھے کہ تشدد کے بجائے امن کو طاقت کا درجہ حاصل ہو جائے۔ مثلاً قدیم یونانی دانشور آئیسو کریٹس (Isocrates) بہت زیادہ امن کی باتیں کرتا تھا۔ مگر آخر عمر میں وہ سخت مایوسی کا شکار ہو گیا۔ یہاں تک کہ ایتھنز میں 338 ق م میں اس نے خود کشی کر لی۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 9، صفحہ 1031) پچھلے پانچ ہزار سال کے اندر بہت سے مصلح اور مفکر پیدا ہوئے جو تشدد کے مقابلہ میں امن کو اونچا درجہ دیتے رہے۔ مگر عملاً کبھی یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ بیسویں صدی میں پہلی بار اس کی کچھ مثالیں قائم ہو سکی ہیں۔ جاپان کے لیڈر ہیروہٹو نے 1945ء میں امریکہ کے مقابلہ میں شکست کے بعد تشدد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیا اور ساری توجہ صرف تعلیم پر لگا دی۔ آج جاپان پوری طرح اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page