Urdu book · فکر اسلامی

جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

مقصد میں کامیاب ہو چکا ہے۔ مہاتما گاندھی نے 1919ء میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک کو عدم تشدد کی بنیاد پر چلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ 1947ء میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔ ساؤتھ افریقہ کے بلیک لیڈر نیلسن منڈیلا نے گاندھیائی طریقہ کو اپناتے ہوئے اپنے ملک کو سفید فام اقلیت کے غلبہ سے رہائی دلانے کی کوشش کی۔ ان کی کوشش بھی پرامن دائرہ میں چلتی ہوئی 1993ء میں سیاہ فام اکثریت کی آزادی تک پہنچ گئی۔ ماضی اور حال میں اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں وہ موافق حالات پیدا نہیں ہوئے تھے، جو پرامن تدبیر میں وہی طاقت پیدا کر دیں جو پہلے صرف تشدد کے اندر سمجھی جاتی تھی۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں پیش آنے والی تبدیلیوں کے نتیجہ میں وہ حالات پوری طرح پیدا ہو گئے۔ چنانچہ لوگوں کے لیے ممکن ہو گیا کہ امن کی طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے بڑی سے بڑی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔ یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ”تلوار“ کے دور میں تشدد بہت محدود مفہوم رکھتا تھا۔ مگر اب جدید قسم کے ہتھیاروں نے تشدد کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع کر دیا ہے کہ اب اگر تشدد کو استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف تباہی ہو گا نہ کہ کسی ایک یا دوسرے کی فتح۔ دوسری بات یہ ہے کہ جدید فکری انقلاب نے ”رائے عامہ“ اور ”سائنس“ جیسے پرامن ذرائع میں وہی طاقت مزید اضافہ کے ساتھ پیدا کر دی ہے جو پہلے تلوار اور نیزے میں سمجھی جاتی تھی۔ اس طرح اب تشدد کے ذریعہ مقصد حاصل کرنے کی بات صرف انھیں لوگوں کے ذہن میں آتی ہے جو دور جدید کی قوت امن سے نا آشنا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں وہ موافق حالات پوری طرح پیدا ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے کسی مقصد کو تشدد اور خوں ریزی کے بغیر حاصل کیا جا سکے۔ یہ حالات و اسباب اسلام کے حق میں مزید اضافہ کے ساتھ موجود ہیں۔ مگر مسلم علما اور رہنماؤں نے جدید علوم سے بے بہرہ ہونے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page