Urdu book · فکر اسلامی

جدید مواقع استعمال نہ ہو سکے

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا پر نہ ان تبدیلیوں کو سمجھا اور نہ وہ مسلم عوام کو ان سے باخبر کر سکے۔ مسلمانوں کے رہنما تمام دنیا میں مسلمانوں کو ایک ہی سبق دے رہے ہیں اور وہ ٹکراؤ اور جہاد (بمعنی قتال) کا سبق ہے۔ یہ لوگ صرف تشدد کی طاقت کو جانتے ہیں اور مسلمانوں کو اسی کی ترغیب دینے میں مشغول ہیں۔ خواہ یہ ٹکراؤ اقبال کے الفاظ میں: ’’لڑا دے ممولے کو شہباز سے‘‘ کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے۔ حدیث میں مومن کی بابت کہا گیا ہے کہ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو (أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361۔ مگر آج کل کے مسلمانوں کو دیکھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بائیں چلو (keep left) کے اصول پر عمل کرنے والے لوگ دائیں چلو (keep right) کے اصول والے ملک میں داخل ہو گئے ہوں، اور سڑکوں پر غلط رخ سے گاڑیاں دوڑا کر خود بھی تباہ ہو رہے ہوں اور دوسروں کو بھی تباہی کا تحفہ دینے کا سبب بن رہے ہوں۔ حالی نے اسی کی بابت کہا تھا: یاں نکلے ہیں سودے کو درم لے کے پرانے اور سکّہ رواں شہر میں مدت سے نیا ہے اسلام کے ابتدائی دور میں تلوار کو انتہائی مجبورانۂ طور پر اور بہت محدود دائرہ میں استعمال کیا گیا تھا۔ مگر بعد کے زمانہ کے لیے پیغمبر اسلام نے پیشگی طور پر یہ خبر دے دی تھی کہ آئندہ اہل اسلام کو تلوار کی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ امن کی طاقت ہی فتوحات کے لیے کافی ہو جائے گی۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ تمہارے ستر ہزار افراد ایک شہر میں پہنچیں گے۔ وہ نہ کسی ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ کوئی تیر ماریں گے ، وہ صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ کہیں گے اور قلعہ کی دیواریں گر پڑیں گی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2920)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page