Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں یہ پیشین گوئی کامل طور پر پوری ہو چکی ہے۔ آج وہ تمام پرامن اسباب پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے اس طرح کسی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے کہ نہ کسی کا خون بہایا گیا ہو اور نہ کسی کے اوپر تشدد کیا گیا ہو ۔ جاپان، ہندوستان، ساوتھ افریقہ اس کی واضح مثالیں ہیں ۔ اسلامی مقصد کے لیے یہ پرامن ذرائع مزید اضافہ کے ساتھ کارآمد ہیں ۔ کیونکہ اسلام کے پاس اسی کے ساتھ ایک اور تسخیری قوت موجود ہے جو کسی اور کے پاس نہیں، یہ آئیڈیالوجی ہے۔ اسلام اس اعتبار سے آئیڈیالوجیکل سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا بالکل نیا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں انسانی تاریخ روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں داخل ہوئی۔ یہ خود دور اول میں آنے والے اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ تھا۔ اور فیصلہ کی یہ بنیاد جو نئے زمانہ نے فراہم کی وہ عین ہمارے حق میں تھی ۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما نہ اس انقلاب کو سمجھے اور نہ وہ اس کو استعمال کر سکے ۔ یہ انقلابی دور جب آیا تو اس کے بعد تمام قوموں کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے ۔ مگر دنیا کی ہر قوم نے جلد یا بدیر اس کے مقابلہ میں اپنا موقف متعین کر لیا ۔ اس عموم میں صرف ایک استثناء تھا اور وہ مسلمانوں کا تھا۔ مسلمان دنیا کی واحد ملت ہیں جو بیسویں صدی کے آخر میں بھی جدید دور کے مقابلہ میں اپنے موقف کا واضح تعین کرنے میں ناکام رہے ۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جب نیا زمانہ آیا تو دوسری قومیں اس کے دھارے میں شامل ہو گئیں۔ اس بنا پر دوسری قوموں میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو اپنے روایتی علوم میں مہارت کے ساتھ عصری معلومات اور عصری زبان سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں یہ صورت حال ہے کہ ایسے افراد صرف شاذ کے درجہ میں ہیں جو دونوں قسم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page