Urdu book · فکر اسلامی

ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

کے علوم میں دستگاہ رکھتے ہوں ، اور الشاذ کالمعدوم (کمیاب چیز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے)۔ اس مسئلہ کے حل کی تدبیر موجودہ حالات میں صرف یہ ہے کہ ملت میں کثیر تعداد میں ایسے افراد پیدا کیے جائیں جو دونوں طرف کی گہری معلومات کے حامل ہوں۔ جو ایک طرف دین کی روح اور دین کے نظام سے پوری واقفیت رکھتے ہوں۔ اور دوسری طرف جدید افکار پر بھی ان کی گہری نظر ہو۔ ایسے ہی لوگ اس مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوں گے جو دور جدید میں ملت کی صحیح رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں اس کی قابل عمل صورت یہ ہے کہ اعلیٰ اہتمام کے ساتھ ایک ایسا مرکزی ادارہ قائم کیا جائے جہاں فارغ نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو۔ اس میں ایک طرف مدارس دینیہ کے فارغین کو رکھ کر انھیں انگریزی اور دوسری عالمی زبانیں پڑھائی جائیں۔ انھیں جدید افکار کا منظم مطالعہ کرایا جائے۔ انھیں دور جدید کا عالم بنایا جائے۔ دوسری طرف اس ادارہ میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے لوگوں کی منتخب تعداد کو لایا جائے۔ یہاں ان کو دینی ماحول میں رکھ کر انھیں عربی زبان اور دوسری اسلامی زبانیں پڑھائی جائیں ۔ دینی علوم کی مختلف شاخوں کا انھیں براہ راست مطالعہ کرایا جائے۔ یہ کورس دو سال یا اس سے زیادہ کا ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد اصلا دونوں قسم کے نو جوانوں میں دو طرفہ مطالعہ کی استعداد پیدا کرنا ہوگا۔ تا کہ ادارہ سے فراغت کے بعد وہ اپنے دہر علمی سفر کو جاری رکھ سکیں۔ ایک طرف علما جدید موضوعات سے آشنا ہوں ۔ دوسری طرف سیکولر اداروں میں پڑھے ہوئے لوگ دینی شعبوں میں معلومات اور واقفیت بہم پہنچائیں۔ ایک حدیث الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ صحیح البخاری، صحیح مسلم دونوں میں آئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page