ایک جامعہ اسلامیہ کی ضرورت
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ علم کبھی نہیں مٹے گا، بلکہ علم کے حاملین دنیا سے چلے جائیں گے ۔ اور دوسرے لوگ ان کی جگہ نہیں لیں گے۔ اس وقت بے علم افراد لوگوں کے رہنما بن جائیں گے۔ لوگ ان سے مسائل دریافت کریں گے۔ وہ اپنی بے خبری کی بنا پر غلط فتوے دیں گے۔ اس طرح خود بھی بھٹکیں گے اور دوسروں کو بھی بھٹکائیں گے ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 100؛ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2673)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل کی کمی ہمیشہ لائق اہل علم کی ہوتی ہے۔ اہلیت رکھنے والے افراد معاملات کو سنوارتے ہیں، اور نااہل افراد معاملات کو بگاڑ دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں ایک طرف علم دین سیکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایک حدیث میں ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ زمانہ کی بصیرت رکھنے والا ہو (اَنْ يَکُوْنَ بَصِیْرًا بِزَمَانِهِ) صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر 361۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ معاملات میں اسلامی رہنمائی دینے کے لیے بیک وقت دو قسم کے علم کی ضرورت ہے۔ ایک طرف قرآن وسنت پر گہری نظر ، اور دوسری طرف پیش آمدہ حالات سے گہری واقفیت۔ موجودہ زمانہ میں جو المیہ پیش آیا ہے وہ یہ کہ ہمارے یہاں اہل علم کی تو کثرت ہے۔ مگر یہ وہ لوگ ہیں جن کا علم یک طرفہ ہے۔ انھوں نے یا تو دینی مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، یا صرف سیکولر علوم کو پڑھا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مختلف مسائل پیدا ہوئے ہیں وہ دراصل اسی علمی وفکری کمی کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ ہماری سخت ترین ضرورت ہے کہ ایسے صاحب علم افراد تیار کیے جائیں جو دونوں پہلوؤں کے بارے میں قابل اعتماد واقفیت رکھتے ہوں ۔ تا کہ وہ قرآن کے الفاظ میں ، استنباط کی ذمہ داری ادا کر سکیں (4:83)۔ مذکورہ ادارہ یا جامعہ اسلامیہ کے مقصد کے بارے میں یہی صحیح ترین لفظ ہے۔ اس کا مقصد اہل استنباط تیار کرنا ہے۔ یعنی ایسے افراد جو اپنی دوطرفہ معلومات کی بنا پر اجتہادی اوصاف کے حامل ہوں، وہ ملت کو مجتہدانہ رہنمائی دے سکیں۔ ملت اسلامی کے لیے نیا اور بہتر مستقبل پیدا کرنے کے سلسلہ میں آج کرنے کا اصل کام یہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader