Urdu book · فکر اسلامی

مجتہدانہ عمل تاریخ میں

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

مجتہدانہ عمل تاریخ میں اجتہاد کے لفظی معنی ہیں، کسی کام میں اپنی پوری طاقت صرف کرنا۔ اجتہاد میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ لسان العرب میں ہے: بَذَلَ وُسْعَه، جَدَّ فِيهِ وَبَالِغ (لسان العرب، جلد 3، صفحہ 134)۔ یعنی، اپنی پوری طاقت لگا دی۔ کوشش کی اور اس میں آخری حد تک پہنچ گیا۔ انگریزی میں کہیں گے: To struggle, to do one's best. اجتہاد کا لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ـــ وہ ممکن کوشش جو ایک ایسے معاملہ میں شریعت کا حکم جاننے کے لیے صرف کی جائے جس کے بارے میں کتاب وسنت میں کوئی نص وارد نہ ہوئی ہو (اِسْتِفْرَاغُ الْوُسْعِ فِي مَعْرِفَةِ الْحُكْمِ الشَّرْعِيِّ فِي أَمْرٍ لَمْ يَرِدْ فِيهِ نَصٌّ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ) ۔ Ijtihad is to find Islamic answers to those questions which are not covered directly by Qur'an and Sunnah. یہ اجتہاد اسلام کی تعلیمات میں کسی ریفارم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اسلام کی از سر نو تشریح کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اس لیے ہوتا ہے کہ اسلام کے ناقابل تغیر اصولوں کو زمانہ کے بدلتے ہوئے حالات پر دوبارہ منطبق کیا جائے: It is to re-apply an unchanging principle of Islam to the changing situation of the time. قرآن میں اس اجتہاد کی اصل خود قرآن وسنت میں موجود ہے۔ قرآن میں امن اور خوف کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب اس قسم کی کوئی غیر معمولی بات پہنچے تو تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے مت لگو۔ بلکہ اس کو رسول اور اصحاب امر کے پاس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page