تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی میں یہ تاریخی عمل اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔ چنانچہ اب ساری دنیا سے قدیم طرز کے مذہبی ظلم کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اب اسلام کا قافلہ مذہبی آزادی کے دور میں ہے۔ اب وہ قدیم مذہبی تعذیب کے دور سے مکمل طور پر باہر آچکا ہے۔ یہ انقلاب اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام تھا۔ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف ابلاغ کے جدید ذرائع انسان کے اوپر کھول دیے۔ دوسری طرف مکمل مذہبی آزادی کو عالمی سطح پر انسان کا مطلق حق تسلیم کرلیا گیا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار داعیانِ توحید کو یہ موقع حاصل ہوگیا کہ وہ خدا کے پیغام کو بلا روک ٹوک ساری دنیا میں پہنچا سکیں۔ مگر عین اسی وقت اسلام کی خود ساختہ سیاسی اور انقلابی تعبیر کا فتنہ ظاہر ہوا۔ اس نے انتہائی غیر ضروری طور پر داعی اور مدعو کے درمیان وہ بے فائدہ جنگ برپا کردی جو خدا نے سینکڑوں سال کے عمل کے بعد بالکل ختم کردی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کے تمام جدید امکانات تباہ ہوکر رہ گئے۔ مدعو انتہائی غیر واقعی طور پر داعی کا حریف بن گیا۔ دونوں کے درمیان داعیانہ تعلق ایک خود پیدا کردہ حریفانہ تعلق میں تبدیل ہوگیا۔ عصرِ حاضر میں اسلامی فکر کی تشکیلِ نو کا کام جتنا ضروری ہے اتنا ہی زیادہ وہ مشکل بھی ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں ایک طرف اگر عصرِ حاضر کا گہرا مطالعہ ضروری ہے تو اسی کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ آدمی کو اسلام کی تعلیمات اور اس کی روح سے کامل درجہ کی واقفیت حاصل ہو۔ اس دوطرفہ شرط میں ادنیٰ کی بھی بھیانک غلطی تک پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی ایک مثال ’’امامتِ اقوام‘‘ کا وہ جدید نظریہ ہے جس کو کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کی انقلابی تعبیر کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، مسلمان سارے عالم کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader