Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

لے آؤ۔ تاکہ جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جانیں (لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ) اور اس کی صحیح شرعی حیثیت متعین کریں (4:83)۔ یہاں قرآن میں الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ کا لفظ آیا ہے۔ القرطبی نے اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: وَالاسْتِنْبَاطُ فِي اللُّغَةِ الاسْتِخْرَاجُ، وَهُوَ يَدُلُّ عَلَى الاجْتِهَادِ إِذَا عُدِمَ النصُّ والإجماع (الجامع لاحکام القرآن، جلد 5، صفحہ 392)۔ یعنی، استنباط کے معنی استخراج کے ہیں۔ اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں جب نص اور اجماع موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جانا چاہیے۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آئے تو اس کی بابت نص کے بجائے استنباط کے ذریعہ شرعی حکم معلوم کرنا جائز ہے۔ اور یہ کہ اس قسم کا استنباط (یا اجتہاد) بھی ایک حجت شرعی کی حیثیت رکھتا ہے (الاسْتِنْبَاطُ حُجَّةٌ) تفسیر الرازی، جلد 10، صفحہ 154۔ حدیث میں حدیث کی کتابوں میں روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان سے پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی مسئلہ آئے گا تو تم اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے۔ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے ۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں اللہ کے رسول کی سنت سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم سنت رسول میں بھی اس کا حکم نہ پاؤ تو پھر کیا کرو گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوشش میں کوئی کمی نہیں کروں گا (أَجْتَهِدُ رَأْيِي، وَلَا آلُو)۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page