حدیث میں
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کا شکر ہے جس نے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3592)۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اجتہاد کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔ صحیح البخاری (کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ) اور صحیح مسلم (کتاب الاقضیۃ) میں عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حاکم کسی معاملہ میں فیصلہ دے اور وہ اس کے لیے اجتہاد کرے اور اس کا فیصلہ درست ہو تو اس کے لیے دو اجر ہے۔ اور جب وہ فیصلہ دے اور وہ اجتہاد کرے، پھر وہ غلطی کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے (إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرُ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1716۔ اس حدیثِ رسول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کی اہمیت دین میں بہت زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ بالفرض یہ اندیشہ ہو کہ اجتہاد کرنے والا کہیں غلطی نہ کر جائے تب بھی اجتہاد کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ ضروری علم اور حسن نیت اگر موجود ہو تو اس کے بعد آدمی کو حق ہے کہ وہ اجتہاد کرے۔ مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس معاملہ میں دینی نقطہ نظر کو نہایت کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے۔ الحافظ السخاوی نے اپنی کتاب ”الممقاصد“ میں ان کا قول اس طرح نقل کیا ہے: ”إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فَفِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ فِيهَا فَلْيَنْظُرْ فِيمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، وَإِلَّا فَلْيَجْتَهِدْ“ (المقاصد الحسنۃ للسخاوی، اثر نمبر 1288)۔ یعنی، جب تم میں سے کسی شخص سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader