فکر اسلامی
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
7۔ جلال الدین سیوطی کی کتاب : الرد علی من اخلد الی الارض زمانۂ رسالت میں اجتہاد اجتہاد کا لفظ عام طور پر تقلید کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اجتہاد دراصل جمود کا ضد ہے۔ ایک صورت یہ ہے کہ لوگ ذہنی جمود کی حالت میں رہیں۔ تخلیقی فکر ان کے اندر پایا نہ جاتا ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن متحرک ہو۔ وہ تخلیقی انداز سے مسائل پر سوچتے ہوں۔ ذہنی جمود کی حالت میں اجتہاد کا عمل رک جاتا ہے۔ اور ذہنی بیداری کی حالت میں اجتہاد کا عمل جاری رہتا ہے۔ اجتہاد کا عمل دور اول میں زمانۂ رسالت ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ اور اس وقت سے آج تک وہ کسی توقف کے بغیر مسلسل جاری ہے۔ اس عمل میں مختلف اوقات میں کمی کی بیشی تو ہوئی۔ مگر خود اجتہاد کا عمل کبھی موقوف نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر کوئی اس کو روکنا چاہے تب بھی خود اپنے زور پر وہ لوگوں کے درمیان جاری ہو جائے گا۔ زمانۂ رسالت میں اجتہاد کی ایک مثال یہ ہے کہ غزوۂ احزاب کے بعد 5ھ میں آپ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمائی۔ یہ روانگی غالباً ظہر کی نماز کے بعد ہوئی تھی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 946) ، لَا تُصَلُّوا صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى تَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ ( مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر 252)۔ ان دونوں روایتوں کا لفظی مطلب یہ ہے کہ تم لوگ عصر کی نماز صرف اس وقت پڑھنا جب کہ تم بنو قریظہ کے علاقہ میں پہنچ جاؤ۔ اس کے مطابق لوگ اپنے اونٹوں پر روانہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ سورج ڈوبنے کے قریب آگیا۔ اب ان میں اختلاف پیدا ہوا، کچھ لوگوں نے کہا کہ بنو قریظہ تک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader