فکر اسلامی
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچتے پہنچتے عصر کی نماز کا وقت ختم ہو جائے گا، اس لیے ہم کو درمیان ہی میں نماز پڑھ لینا چاہیے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں، ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ کیوں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ عصر کی نماز تم لوگ بنوقریظہ کی بستی میں پہنچنے سے پہلے مت پڑھنا۔ چنانچه کچھ لوگوں نے اپنی رائے کے مطابق درمیان میں عصر کی نماز ادا کرلی۔ اور کچھ لوگ چلتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ بنوقریظہ کے علاقہ میں پہنچ گئے اس وقت انھوں نے عصر کی نماز پڑھی۔ اگرچہ وہاں پہنچ کر عصر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد جب رسول اللہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے دونوں ہی کے عمل کی تصدیق فرمائی۔ علما نے اس واقعہ پر کافی بحث کی ہے۔ محقق علما کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے درمیان میں نماز پڑھی وہ اگرچہ بظاہر قول رسول کی خلاف ورزی تھی، مگر یہ ان کا اجتہاد تھا اور ان کا اجتہاد درست تھا۔ کیونکہ انھوں نے اس حقیقت کو جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تیزی سے سفر کر کے جلد منزل پر پہنچو۔ آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ نماز دیر کر کے پڑھو (إِنَّهُمْ فَهِمُوا أَنَّ الْمُرَادَ إِنَّمَا هُوَ تَعْجِيلُ السَّيْرِ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، لَا تَأْخِيرُ الصَّلَاةَ) البدایہ والنھایہ لابن کثیر، جلد 6، صفحہ 75۔ خلافت راشدہ کے دور میں اب خلافت راشدہ کے زمانے میں اجتہاد کی مثال لیجیے۔ ایک روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں کتاب الصوم کے تحت آئی ہے۔ آپ نے یہ بتاتے ہوئے کہ رمضان کے مہینہ کا شمار کس طرح کیا جائے، فرمایا: إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1913)۔ یعنی، ہم ایک اُمّی امت ہیں۔ ہم نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیشتر نظام اسی اصول پر چلتا رہا۔ مثلاً بیت المال میں رقم آتی تو اس کے آمد و خرچ کا حساب کسی رجسٹر میں لکھا نہیں جاتا تھا، بلکہ سارا کام زبانی طور پر انجام پاتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader