Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں اسلامی حکومت میں کافی توسیع ہوئی۔ اس زمانہ کے متمدن علاقے (شام، مصر، عراق وغیرہ) اسلامی سلطنت میں شامل ہوئے۔ اب کام اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ زبانی طور پر اس کا نظم کرنا ممکن نہ رہا۔ حضرت عمر نے دیکھا کہ ان ملکوں میں باقاعدہ دفتر اور رجسٹر ہوتے ہیں۔ اور سارے معاملات تحریری طور پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق اگر حدیث کی بالکل لفظی پابندی کرتے تو توسیع سے پیدا شدہ سوالات کو نظر انداز کرتے اور سارے معاملات کو بدستور غیر تحریری حالت میں رہنے دیتے ۔ مگر آپ نے تمام شہروں میں دفتر قائم کیے ۔ اور زمین کا بندوبست ، بیت المال کا حساب ، وظائف کا نظام، مردم شماری کا ریکارڈ وغیرہ ۔ ہر چیز کو تحریر اور رجسٹر کی صورت میں منظم کر دیا۔ یہاں تک کہ آپ نے مفتوحہ ممالک کے دفاتر کی زبان بھی نہیں بدلی ۔ اسلام سے پہلے ایران کا دفتر فارسی زبان میں تھا۔ شام کا رومی زبان میں اور مصر کا قبطی زبان میں ۔ حضرت عمر نے ہر جگہ اس کو اسی طرح باقی رکھا۔ یہ واضح طور پر اجتہاد کا معاملہ تھا۔ حضرت عمر فاروق اگر اجتہاد سے کام نہ لیتے تو مذکورہ حدیث رسول کی موجودگی میں وہ کبھی سرکاری کاموں میں کتابت اور رجسٹر کے نظام کو اختیار نہ کرتے۔ بعد کے زمانہ میں خلافت راشدہ کے بعد بھی برابر اجتہاد کا سلسلہ جاری رہا۔ انھیں میں سے ایک نمایاں مثال وہ ہے جو امام حسین بن علی کے بعد سامنے آئی۔ امام حسین نے 61ھ میں بنو امیہ کے حکمران یزید بن معاویہ کے خلاف خروج کیا۔ ان کی بابت مؤرخین یہ الفاظ لکھتے ہیں : رَفَضَ مُبَایَعَةَ يَزِيدَ وَدَعَا إِلَى تَبْدِيلِ الْحُكْمِ الْاِسْتِبْدَادِيِّ الْفَرْدِيِ۔ یعنی ، انھوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کیا اور اس کی شخصی اور استبدادی حکومت کو ختم کرنے کی تحریک چلائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page