بعد کے زمانہ میں
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ معلوم ہے، کربلا کے میدان میں امام حسین کے قافلہ اور یزید کی فوج کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ اس میں امام حسین اور ان کے بیشتر ساتھی شہید ہو گئے۔ مزید یہ کہ حکمرانوں کے مظالم پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئے۔ اپنے ظاہر کے اعتبار سے امام حسین کا یہ اقدام ایک اچھے مقصد کے لیے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ظالمانہ نظام حکومت ختم ہو اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام قائم ہو جائے۔ مگر باعتبار نتیجہ وہ الٹا (counter-productive) ثابت ہوا۔ اس طرح کے تجربات کے بعد فقہ میں ایک مستقل اصول بنایا گیا جس کو تَرْكُ المَصْلَحَةِ لِمَفْسَدَةٍ أَرْجَحَ مِنْهَا کہا جاتا ہے۔ یعنی، ایک درست کام بھی اس وقت نہ کرنا جب کہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلنے والا ہو۔ اس اصول کے تحت علما نے اس پر اتفاق کر لیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف ہرگز خروج (بغاوت) نہ کیا جائے۔ ابن کثیر (م 774ھ) نے اس مسئلہ پر مفصل بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام اگر فاسق ہو تو محض فسق کی بنا پر اس کو معزول نہیں کیا جائے گا۔ اور اس کے خلاف بغاوت کرنا جائز نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں فتنے بھڑکتے ہیں (وَالإِمَامُ إِذَا فَسَقَ لَا يُعْزَلُ بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ، وَلَا يَجُوزُ الْخُرُوجُ عَلَيْهِ؛ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ إِثَارَةِ الْفِتْنَةِ) البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، جلد 8، صفحہ 224-223۔ النووی (م 676ھ) نے صحیح مسلم (کتاب الفتن) کی شرح میں اس موضوع پر تفصیلی کلام کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مسلم حکمراں اگر منکرات کا ارتکاب کرے تو اس کو صرف قولی نصیحت کی جا سکتی ہے۔ اور جہاں تک حکمراں سے بغاوت اور جنگ کا تعلق ہے تو وہ اجماع مسلمین کے تحت حرام ہے، خواہ وہ فاسق ہوں، خواہ وہ ظالم ہوں (وَأَمَّا الْخُرُوجُ عَلَيْهِمْ وَقِتَالُهُمْ فَحَرَامٌ بِإِجْمَاعِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فَسَقَةً ظَالِمِينَ) شرح النووی علی مسلم، جلد 12، صفحہ 229۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader