فکر اسلامی
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کا فیصلہ واضح طور پر ایک اجتہاد کا واقعہ ہے۔ اسی اجتہاد پر عمل کرنے کی وجہ سے علما امت نے ساری تاریخ میں دوبارہ کبھی مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج نہیں کیا۔ حکمران کی غلط روش پر انھوں نے قولی نصیحت تو کی، مگر کبھی ان کے خلاف عملی بغاوت منظم نہیں کی۔ عصر حاضر میں اجتہاد اب ہم ماضی سے گزر کر عصر حاضر میں آتے ہیں جو اپنی واضح صورت میں اٹھارویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ یہ نیا زمانہ اپنی غیر معمولی تبدیلیوں کی بنا پر مزید اضافہ کے ساتھ اجتہاد کا طالب تھا۔ چنانچہ علما نے بار بار اجتہاد کیا۔ اگرچہ دور حاضر میں علما کا اجتہاد اتنا مؤثر نہ ہوسکا جتنا کہ وہ دور حاضر سے پہلے تقریباً ہزار سال تک مفید اور مؤثر ثابت ہوا تھا۔ اس نئے دور کا اجتہاد کبھی تو اجتہادی خطا ثابت ہوا۔ اور کبھی ایسا ہوا کہ وہ اختلاف و نزاع کا شکار ہو گیا۔ اور عملاً امت کے اندر قبول عام حاصل نہ کر سکا۔ اس سلسلہ میں ہم یہاں چند مثالیں نقل کریں گے۔ اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ مسلمان ساری دنیا میں مغربی قوموں کے مقابلہ میں مغلوب ہو چکے ہیں۔ 1770 ء میں جنگ چشمی (Battle of Cesme) میں عثمانی ترکوں کے طاقت ور بحری بیڑے کی تباہی اور پھر 1799 ء میں سلطان ٹیپو کی شہادت نے آخری طور پر اس مغلوبیت کو ثابت شدہ بنا دیا۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کیا جائے۔ اس وقت ساری دنیا کے مسلم ذہن صرف ایک بات سوچ سکے ۔ اور وہ یہ تھی کہ مغربی قوموں کے خلاف مسلح جنگ ۔ ہندوستان اس وقت مغربی قوموں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ چنانچہ 1806ء میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان مغربی قوموں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader