Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کر کے ان کا زور توڑیں اور انھیں مسلم دنیا سے نکلنے پر مجبور کر دیں۔ اس وقت یہ خیال تھا کہ ہندوستان میں اگر مغربی استعمار کا خاتمہ ہو تو پوری مسلم دنیا سے اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد ہندوستان کے انگریز حکمرانوں سے خونین جنگ شروع ہوئی۔ یہ جنگ مختلف صورتوں میں تقریباً سو سال تک جاری رہی۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی جنگ اور 1857ء میں علما دیوبند کی جنگ، اور اس طرح کی دوسری لڑائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزوں سے براہ راست مسلح ٹکراؤ جب ناکام ہو گیا تو علما نے بیرونی ملکوں (افغانستان، ترکی وغیرہ) کی مدد سے اس کو جاری رکھا جس کو ریشمی رومال کی تحریک کہا جاتا ہے۔ مگر وہ بھی مکمل طور پر ناکام رہا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، اس سو سالہ جنگ سے کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ مسلمانوں کی تباہی میں مزید بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ آخرکار 1920ء کے لگ بھگ زمانہ میں مہاتما گاندھی ظاہر ہوئے۔ انھوں نے متشددانہ جدوجہد (violent struggle) کے بجائے پرامن جدوجہد (peaceful struggle) کا نعرہ دیا۔ یہ نعرہ بیشتر علما کی سمجھ میں آ گیا۔ مثلاً مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، وغیرہ۔ علما ہند کی 99 فیصد تعداد نے اس کو قبول کر لیا۔ یہ گویا سابق اجتہاد سے رجوع کر کے دوسرے اجتہاد کی طرف آنا تھا۔ یہ متشددانہ جہاد کو چھوڑ کر پرامن جہاد کے اصول کو اختیار کرنا تھا۔ تجربہ سے ثابت ہوا کہ پہلی رائے مجتہدانہ خطا تھی اور دوسری رائے مجتہدانہ صواب۔ جدید مسائل جدید اجتہاد طلب مسائل میں سے ایک مسئلہ قومیت (nationality) کا ہے۔ چند

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page