جدید مسائل
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
سوسال پہلے تک مسلمان ایک عالمی برادری کی حیثیت رکھتے تھے۔ ساری دنیا عملاً ان کا وطن بنی ہوئی تھی۔ اسی کے ساتھ اس وقت تک جدید تصور قومیت کا بھی ظہور نہیں ہوا تھا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھا جاتا رہا کہ مسلمان نہ عربی ہے اور نہ ایرانی ، وہ نہ ہندی ہے اور نہ ترکستانی۔ تمام دنیا اس کا وطن ہے ، اور تمام مسلمان ایک ہی عالمی قومیت کے حامل ہیں۔ مسلمان ایک بین الاقوامی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انیسویں صدی میں جب مسلمانوں کی سیاسی طاقت کا شیرازہ بکھرا، اور فاطمی سلطنت ، عثمانی سلطنت اور مغل سلطنت ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تو مسلمانوں کے درمیان احیاء نو کی تحریکیں اٹھیں۔ یہ تحریکیں زیادہ تر رد عمل کی نفسیات کے تحت ابھریں ۔ چنانچہ انھوں نے دوبارہ وہی رخ اختیار کر لیا جو فکری طور پر صدیوں سے چلا آرہا تھا۔ سید جمال الدین افغانی کی اتحاد اسلامی (پان اسلام ازم) اور مولانا محمد علی اور مولانا ابو الکلام آزاد کی خلافت تحریک اس کی مثالیں ہیں۔ ان تحریکوں نے مسلمانوں کو ایک بین الاقوامی شہری کی حیثیت سے دیکھا اور اسی اعتبار سے دوبارہ عالمی نقشہ پر ان کو جگہ دلانے کی کوشش کی۔ تاہم یہاں بھی ہم کو کچھ ایسے نام ملتے ہیں جنھوں نے مجتہدانہ فکر کا ثبوت دیا۔ ان میں مولانا سید حسین احمد مدنی کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ آزادی ہند (1947ء) سے پہلے انھوں نے اعلان کیا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں ۔ اس لیے ہندوستان کا مسلمان وطنی اعتبار سے ہندوستانی ہے۔ ایران کا مسلمان ایرانی اور افغانستان کا مسلمان افغانیستانی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، مکتوبات شیخ الاسلام ، حصہ سوم) اس معاملہ میں مولانا حسین احمد مدنی کی کافی مخالفت کی گئی۔ مخالفین میں علامہ اقبال ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اور دوسرے کئی لوگوں کے نام ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں مولانا حسین احمد مدنی نے مجتہدانہ بصیرت کا ثبوت دیا اور ان کے مخالفین صرف مقلدانہ فکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader