Urdu book · فکر اسلامی

تعارف مسئلہ

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

قائد اور حاکم ہیں۔ مسلمانوں کو خدا کی طرف سے یہ منصب عطا کیا گیا ہے کہ وہ ”انسانی حاکموں“ کو بزور تمام دنیا میں اقتدار سے ہٹائیں اور انسانوں کے اوپر خدا کی حکومت (عملی طور پر خود اپنی حکومت) قائم کر دیں۔ اس نام نہاد انقلابی نظریہ کے لیے قرآن یا حدیثِ رسول میں کوئی دلیل نہیں۔ اس کی دلیل عہد صحابہ کے ایک واقعہ سے نکالی گئی ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں جب ایرانی حکومت سے مسلمانوں کا ٹکراؤ ہوا۔ تو اس دوران مسلم لشکر کے سردار سعد بن ابی وقاص نے گفت و شنید کے لیے کچھ وفد ایرانی حکمرانوں کے یہاں بھیجے ۔ ان میں سے ایک ربعی بن عامر تھے۔ ربعی بن عامر جب ایرانی سپہ سالار رستم کے دربار میں پہنچے تو رستم سے ان کی لمبی گفتگو ہوئی ۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا: قَالَ رُسْتُمْ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالَ: اَللَّهُ ابْتَعَثْنَا، وَاللَّهُ جَاءَ بِنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللَّهِ (تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 520)۔ رستم نے پوچھا کہ تم کس لیے ہمارے ملک میں آئے ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو اللہ نے بھیجا ہے۔ اور ہم کو اللہ لے آیا ہے تا کہ وہ جس کو چاہے اس کو ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ صحابی کی اس تقریر سے مذکورہ سیاسی نظریہ نکالنا بلاشبہ ایک ناممود جسارت ہے۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کی تصویر کو بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔ صحابی کے مذکورہ قول میں اسلام کی وسیعی انسانیت (extended humanity) کو بتایا گیا ہے۔ مگر عدم واقفیت کی بنا پر غلط تعبیر کر کے اس کو اسلام کی وسیعی سیاست (extended politics) کے معنی میں لے لیا گیا۔ یہ یقینی طور پر صحابی کے ایک قول کی نہایت غلط توجیہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اس وقت ایرانی حاکموں اور اہلِ اسلام کے درمیان جنگ پیش آئی۔ لیکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page