فکر اسلامی
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
پر قائم رہے۔ مولانا مدنی کا اجتہاد بلا شبہ ایک صحیح اجتہاد تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ میں قومیت کا تعلق وطن سے ہو گیا ہے: حالات کے تقاضے کے تحت عملاً تمام دنیا کے مسلمان اس کو قبول کر چکے ہیں۔ مثلاً ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے مسلمان اپنے پاسپورٹ میں نیشنلٹی کے خانہ میں اپنے آپ کو انڈین یا امریکن وغیرہ لکھتے ہیں، وہ اس میں مسلم نہیں لکھتے۔ اسی طرح پاکستان میں پاکستانی اور ایران میں ایرانی لکھا جاتا ہے۔ اب مزید ضرورت صرف یہ ہے کہ جس چیز کو عملی طور پر تمام مسلمان اختیار کر چکے ہیں، اس کو وہ فکری طور پر بھی پوری طرح اختیار کر لیں۔ تا کہ فکر اور عمل میں تضاد باقی نہ رہے۔ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا مسلک یہی ہے کہ انٹرنیشنل رواج کو اختیار کر لیا جائے۔ غیر ضروری طور پر اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا کر لوگوں کو غیر فطری مشکلات میں مبتلا نہ کیا جائے۔ سیکولرزم کا مسئلہ اسی طرح ایک اور معاملہ سیکولرزم کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مشترک سماج کے لیے سیکولرزم کو حکومت کا سب سے بہتر فارم تسلیم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ملکوں کا نظام اسی کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ ایسے مسلمان اٹھے جنھوں نے سیکولرزم کی سخت مخالفت کی اور اس کو ایک اینٹی اسلام نظریہ بتایا۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ مگر یہ صرف ایک انتہا پسندانہ رد عمل تھا۔ اس کو کوئی سوچا سمجھا مثبت رد عمل نہیں کہا جا سکتا۔ اس معاملہ میں زیادہ صحیح رائے کچھ دوسرے لوگوں نے پیش کی۔ مثلاً مولانا سعید احمد اکبر آبادی (1985-1908ء) وغیرہ۔ اس سلسلہ میں مولانا اکبر آبادی کا ایک مضمون تین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader