Urdu book · فکر اسلامی

سیکولرزم کا مسئلہ

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

قسطوں میں ماہنامہ برہان، دہلی کے شمارہ مئی، جون، جولائی 1962ء میں چھپا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ ہندوستان کے لیے سب سے بہتر نظام وہی مشترک نظام ہے جس کو سیکولر نظام کہا جاتا ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ : حکومت کی ایک قسم سیکولر ہے۔ اور سیکولر کی تعریف ؀ یہ ہے کہ تمام مذاہب آزاد ہوں گے اور ریاست کے ہر شخص کو یکساں شہری حقوق حاصل ہوں گے (صفحہ 323)۔ انھوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان کے موجودہ حالات کے اعتبار سے یہاں کے لیے سب سے زیادہ بہتر اور قابل عمل نظام صرف سیکولر نظام ہے۔ انھوں نے لکھا تھا کہ یہی ملکی حالات کا تقاضا ہے۔ مزید یہ کہ اسلام میں اور سیکولر نظام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ یہ ایک مجتہدانہ رائے ہے اور وہ ایک صحیح اجتہاد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیکولرزم بجائے خود کوئی آئیڈیل نظام حکومت ہے۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ مشترک سماج میں صرف وہی قابل عمل ہے۔ اس کی اہمیت عملی اعتبار سے ہے، نہ کہ خالص نظریاتی اعتبار سے۔ اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ ؀ ذاتی معاملہ میں آئیڈیلسٹ بنو، اور اجتماعی معاملات میں پریکٹیکل۔ اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں ملتی ہے۔ مدنی دور کے دو بڑے حصے ہیں ۔ پہلا دور، جب کہ مدینہ میں تین قسم کے گروہ موجود تھے ؀ مسلمان، یہود اور مشرکین۔ دوسرے دور میں یہ فرق ختم ہو گیا اور مدینہ کے تمام باشندے اسلام میں داخل ہو گئے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں جب ہم مدینہ کے دور اول کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چارٹر جاری فرمایا تھا جس کو عام طور پر صحیفہ مدینہ کہا جاتا ہے۔ یہ اس پہلے دور کی ریاست کا گویا دستور تھا۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page