Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد جاری ہے

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے برعکس، انھوں نے کھلے طور پر اعلان کیا کہ ہماری رائے کوئی مطلق یا مقدس رائے نہیں ہے۔ تم ہماری کسی رائے کو محض ہمارے کہنے سے مت لے لو۔ بلکہ اس کو قرآن وسنت کی روشنی میں دیکھو۔ کیوں کہ شریعت میں اصل معیار قرآن و حدیث ہے، نہ کہ کسی فقیہ کی رائے۔ ہماری بات قرآن و حدیث کے مطابق نظر آئے تو قبول کرو۔ ورنہ اسے نظر انداز کردو۔ یہاں چند اکابر فقہا کے اقوال اس سلسلہ میں نقل کیے جاتے ہیں: الامام مالک: مَا مِنَّا إِلَّا مَنْ يُخْطِئُ وَيُرَدُّ عَلَيْهِ إِلَّا الْمَعْصُومَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ( الامام مالک ) ہم میں سے ہر شخص غلطی کرتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص کی کوئی بات قابل رد ہو سکتی ہے۔ سوار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ معصوم ہیں۔ الامام الشافعی: إِذَا صَحَّ الحَدِيثُ فَهُوَ مَذْهَبِي ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، شاہ ولی اللہ دہلوی، صفحہ 104)۔ جب صحیح حدیث ثابت ہو جائے تو وہی میرا مسلک ہے۔ وَاضْرِبُوا بِقَوْلِي عُرْضَ الحَائِطِ ( مرآۃ الزمان فی تواریخ الاعیان، جلد 13، صفحہ 415)۔ حدیث کے بعد میرے قول کو دیوار پر مار دو۔ لَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ( مختصر المزنی، مقدمہ، صفحہ 285-284)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کا قول حجت نہیں۔ الامام ابو حنیفہ: لَا يَنْبَغِي لِمَنْ لَمْ يَعْرِفْ دَلِيلِي أَنْ يُفْتِيَ بِكَلامِي وَكَانَ اذا أفتى يَقُول هذا رأى النُّعْمَانِ بنِ ثَابِتِ يَعْنِي نَفْسَهُ وَهُوَ أحسَنُ مَا قَدَرْنَا عَلَيْهِ فَمَن جَاءَ بِأَحْسَنَ مِنْهُ فَهُوَ أولى بالصَّوَابِ ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، شاہ ولی اللہ دہلوی، صفحہ (104)۔ جو شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page