Urdu book · فکر اسلامی

اجتہاد جاری ہے

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

میری دلیل کو نہ جانے اس کے لیے درست نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتویٰ دے۔ ابو حنیفہ جب کسی مسئلہ میں فتویٰ دیتے تو کہتے کہ یہ نعمان بن ثابت کی رائے ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہ احسن ہے۔ جو شخص اس سے زیادہ احسن کو پائے تو اس کے بعد وہی زیادہ صحیح ہے۔ الامام احمد بن حنبل : لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدْ مَالِكًا وَلَا الثَّوْرِيَّ وَلَا الْأَوْزَاعِيَّ، وَخُذْ مِنْ حَيْثُ أَخَذُوا ( اعلام الموقعین لابن قیم الجوزیة، جلد 2، صفحہ 139 )۔ تم میری تقلید نہ کرو اور نہ مالک اور شافعی اور اوزاعی اور نخعی یا کسی اور کی تقلید کرو۔ تم بھی وہیں سے لو جہاں سے انھوں نے لیا۔ ائمہ اربعہ کے ان اقوال سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اصل چیز قرآن اور سنت تھی۔ وہ اس کو سراسر غلط سمجھتے تھے کہ کوئی شخص ان کا مقلد بن جائے اور کتاب و سنت سے براہ راست دین اخذ نہ کرے۔ امام شافعی نے لکھا ہے کہ قاضی کے لیے مجتہد ہونا ضروری ہے (امام ابو حنیفہ کے نزدیک قاضی کا مجتہد ہونا مستحب ہے) الاحکام السلطانیة للماوردی، صفحہ 113۔ اب غور کیجیے کہ قضا (عدالت) تو ایک ایسا عمل ہے جو کسی بھی زمانہ میں ختم نہیں ہو سکتا۔ وہ قیامت تک جاری رہے گا۔ پھر جب قضا کا عمل ہر دور میں جاری رہے گا تو لازم ہے کہ اجتہاد کا عمل بھی ہر دور میں جاری رہے۔ اسی لیے حنبلی فقہا کا یہ کہنا ہے کہ کبھی بھی کوئی دور مجتہد سے خالی نہیں ہو سکتا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ اجتہاد کا نہیں ہے بلکہ اجتہادی صلاحیت کا ہے۔ چوں کہ اب ایسے افراد موجود نہیں ہیں جو اجتہاد کی مطلوب صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہوں، اس لیے عملاً اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اجتہاد کے دروازہ کو بند رکھا جائے۔ ورنہ نااہل لوگ اجتہاد کریں گے اور پھر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page