Urdu book · فکر اسلامی

تعارف مسئلہ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ کی حیثیت پورے معاملہ میں محض اضافی یا اتفاقی تھی۔ وہ اس کا اصل مطلوب نہ تھی۔ اس زمانہ میں ساری دنیا میں انسانیت اونچے اور نیچے طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ کچھ لوگوں کے صرف حقوق ہی حقوق تھے، اور کچھ لوگوں کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں۔ کچھ لوگ خدا کے نمائندہ بن کر دوسروں کو اپنا غلام بنائے ہوئے تھے۔ عمومی مساوات کا تصور دنیا سے ختم ہو گیا تھا۔ خود ایران کے حکمراں اپنے آپ کو مالک اور دوسروں کو اپنا مملوک سمجھ رہے تھے۔ اس وقت اصحاب رسول اور اہل ایمان انسانیت کا پیغام لے کر اٹھے۔ وہ تمام انسانوں کی محبت میں سرشار تھے اور دوسروں کو بھی یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ وہ تمام انسانوں سے محبت کریں۔ وہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے اخوت اور مساوات کا پیکر بن چکے تھے، اور اب چاہتے تھے کہ دوسرے انسان بھی اسی طرح اخوت اور مساوات کے رنگ میں رنگ جائیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ لوگوں کے درمیان انسانیت کی ٹھنڈی ہوائیں چلانے کے لیے اٹھے تھے نہ کہ گن کلچر چلا کر لوگوں کے اوپر اپنی سیاسی حکمرانی قائم کرنے کے لیے۔ اسلام کی تشریح نو عملی اعتبار سے نہایت مشکل ہے۔ یہ ایک اجتہادی نوعیت کا کام ہے۔ چنانچہ لوگوں کو وہ ہمیشہ ایک نیا کام دکھائی دیتا ہے۔ یہ کام جب بھی کیا جائے گا وہ اس عوامی نفسیات کا شکار ہو گا جس کو عربی مقولہ میں الناس اعداء ماجہلوا کہا گیا ہے۔ یعنی لوگ اس چیز کے دشمن بن جاتے ہیں جس کو وہ نہ جانتے ہوں۔ اس نفسیاتی کمزوری کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اسلام کی تشریح نو کو لوگ نیا دین سمجھ لیتے ہیں ۔ اور اس کو مٹانے کے درپے ہوجاتے ہیں۔ یہ رکاوٹ انتہائی غیر معمولی ہے۔ کیوں کہ وہ اپنوں کی طرف سے پیش آتی ہے۔ اس دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ اغیار کی مخالفت آدمی کو ہیرو بناتی ہے اور اپنوں کی مخالفت آدمی کو زیر و

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page