اجتہاد جاری ہے
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر یہ بات صحیح نہیں۔ جب خدا نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں بار بار حالات بدلیں اور نئے نئے مسائل سامنے آئیں تو یہ ناممکن ہے کہ خدا ایسے اہل افراد پیدا نہ کرے جو پیش آمدہ سوالات کا مجتہدانہ جواب دے سکتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ رکھنا نعوذ باللہ خالق کے اوپر الزام ہے۔ اور ظاہر ہے کہ خالق اس سے بری ہے کہ اس کے اوپر کوئی الزام آئے۔ قرآن میں ایک نہایت بنیادی بات یہ کہی گئی ہے کہ اللہ نے اس دین کے معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی تنگی نہیں رکھی: وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَج (22:78)۔ حدیث میں اس کی وضاحت ان الفاظ میں ہے کہ: إِنَّ الدِّينَ يُسْرُ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 39)۔ یعنی ، دین آسان ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15936)۔ یعنی، تمہارا وہ دین بہتر ہے جو زیادہ آسان ہو۔ ان نصوص کی روشنی میں اجتہاد کی وہی تعبیر صحیح دینی تعبیر قرار پائے گی جو آسان اور ہر زمانہ میں قابل عمل ہو۔ اس کے مقابلہ میں اجتہاد کی وہ تعبیر رد ہو جائے گی جو اتنی مشکل ہو کہ سرے سے اس پر عمل ہی نہ ہو سکے۔ یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند کر دینا پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند ہونا نہ شرعی طور پر درست ہے اور نہ عقلی طور پر ممکن۔ اجتہاد کا عمل جس طرح تیسری صدی ہجری تک جاری تھا، اسی طرح وہ آج بھی پوری طرح جاری ہے۔ اس کا دروازہ نہ کبھی بند ہوا، اور نہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اس کو بھی بند کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader