Urdu book · فکر اسلامی

عقیدہ اور استدلال

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

کے (religious certitude) کو مذہبی ایقان (philosophical certainty) ساتھ گڈ مڈ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی فلاسفر کی حیثیت سے میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ایمان کو کبھی بھی سائنسی علم والی قطعیّت کے درجہ پر نہیں رکھا جا سکتا: As a philosopher of religion I feel compelled to acknowledge that faith could never be placed on the same level of certainty as scientific knowledge. (p.6) مگر اس کے برعکس، میرا احساس یہ ہے کہ ایمان وعقیدہ کو اسی قطعیّت کے درجہ میں مانا جا سکتا ہے جس درجہ میں سائنسی نظریات کو مانا جاتا ہے۔ کم از کم بیسویں صدی میں اب دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ علم حقائق دو قسم کی چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک وہ جس کو برٹرینڈ رسل نے چیزوں کا علم (knowledge of things) کہا ہے اور دوسرا وہ جس کو حقیقتوں کا علم (knowledge of truths) کہتا ہے۔ یہ دوگانہ تقسیم مذہب میں بھی ہے اور سائنس میں بھی۔ مثلاً جو علماء سائنس حیاتیاتی ارتقاء کو سائنسی حقیقت کہتے ہیں ان کے نزدیک اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے مختلف انواع (species) کے جسمانی مظاہرہ کا معاملہ۔ اور دوسرا ہے وہ قانون ارتقاء، جو انواع کی تبدیلیوں کے درمیان مخفی طور پر جاری رہتا ہے۔ ایک ارتقائی عالم جب انواع حیات کے جسمانی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ ”اشیاء“ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جب وہ ارتقائی قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے موضوع کے اس پہلو کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جس کو اوپر کی تقسیم میں ”حقیقت“ کہا گیا ہے۔ ہر ارتقائی عالم جانتا ہے کہ دونوں پہلوؤں کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک اشیاء یا شواہد ارتقاء کے مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں براہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page