Urdu book · فکر اسلامی

عقیدہ اور استدلال

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

راست دلائل قابل حصول ہیں۔ مثال کے طور پر متجرّات (fossils) جو کھدائی کے ذریعہ زمین کی تہوں سے کثرت سے برآمد کیے گئے ہیں، ان کا مطالعہ مشاہداتی سطح پر ممکن ہے۔ اس کے برعکس ، حقائق یا قانون ارتقاء کے معاملہ میں موضوعی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر براہِ راست استدلال ممکن نہیں۔ مثلاً ارتقائی عمل کے دوران اشکال میں اچانک تبدیلیاں (mutations) کا نظریہ، جو تمام ترقیات پر مبنی ہے، نہ کہ براہِ راست مشاہدات پر۔ اس دوسرے معاملہ میں خارجی تغیر تو دکھائی دیتا ہے، مگر قانون تغیر بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہر عالم ارتقاء موضوع کے اس دوسرے پہلو میں بالواسطہ استدلال سے کام لیتا ہے جس کو علم منطق میں استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔ تبدیلی کا یہ نظریہ ارتقاء کی بنیاد ہے۔ تاہم اس معاملہ کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک جزء مشاہدہ میں آتا ہے۔ مگر اس کا دوسرا جزء مکمل طور پر نا قابل مشاہدہ ہے۔ وہ صرف استنباط کے اصول سے کام لے کر فلسفہ ارتقاء میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ایک عام واقعہ ہے کہ انسان یا جانور سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب ایک ہی قسم کے نہیں ہوتے۔ ان میں مختلف اعتبار سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس حیاتیاتی مظہر کا سائنسی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ رحم مادر میں بچہ کے جینز کے اندر اچانک طور پر خود بخود تبدیلیاں (spontaneous changes) پیدا ہوتی ہیں۔ یہی تبدیلیاں ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بچوں میں فرق کا سبب ہیں۔ اولاد میں ایک دوسرے کے درمیان یہ فرق ایک مشاہداتی واقعہ ہے۔ مگر اس کے بعد اس مشاہدہ کی بنیاد پر جوارتقائی فلسفہ بنایا گیا ہے وہ خود مکمل طور پر قابل مشاہدہ ہے اور صرف قیاسی استنباط کے ذریعہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ گو یا اشیاء ارتقاء قابل مشاہدہ ہیں اور حقائق ارتقاء ناقابل مشاہدہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page