Urdu book · فکر اسلامی

عقیدہ اور استدلال

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں ارتقائی عالم یہ کرتا ہے کہ ایک سرے پر وہ ایک بکری کو رکھتا ہے اور دوسرے سرے پر ایک زرافہ کو۔ اس کے بعد وہ فاصل کے کچھ درمیانی نمونوں کو لے کر یہ نظریہ بناتا ہے کہ ابتدائی بکری کے کئی بچوں میں سے ایک بچہ کی گردن اتفاقاً کچھ لمبی تھی۔ اس کے بعد اس لمبی گردن والی بکری کی اولاد ہوئی تو اس میں گردن کی یہ لمبائی کچھ اور بڑھ گئی۔ اسی طرح کروڑوں سال کے دوران گردن کی یہ لمبائی نسل در نسل جمع ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ابتدائی بکری کی اگلی اولاد کا زرافہ جیسا جانور بن گئی۔ اسی نظریہ کے تحت چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع میں لکھا ہے کہ مجھ کو یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ایک معمولی کھر دار چوپایہ زرافہ جیسے جانور میں تبدیل ہوسکتا ہے: ...it seems to me almost certain that an ordinary hoofed quadruped might be converted into a giraffe. (p.169) اس معاملہ میں بکری کی اولاد میں فرق ہونا بذات خود ایک معلوم واقعہ ہے۔ مگر اس فرق کا کروڑوں سال تک نسل در نسل جمع ہوتے ہوئے اس کا زرافہ بن جانا، مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ اور ناقابل تجربہ ہے۔ وہ صرف ایک نوع اور دوسری نوع میں مماثلت اور فاصلز کے مشاہدہ کی بنیاد پر استنباط کے ذریعہ اخذ کیا گیا ہے۔ نہ کہ براہ راست طور پر خود ایک نوع سے دوسری نوع کے ارتقائی مشاہدہ کے ذریعہ۔ ٹھیک یہی معاملہ مذہب کے موضوع کا بھی ہے۔ مذہب کے مطالعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ اس کی تاریخ، اس کی شخصیات، اس کے احکام اور اس کے رسوم و رواج کا مطالعہ کریں۔ یہ مذکورہ تقسیم کے مطابق گویا اشیاء مذہب کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس پہلو سے مذہب میں بھی موضوعی معلومات دستیاب ہیں۔ اس لیے یہاں مذہب کا مطالعہ بھی ٹھیک اسی طرح براہ راست شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے جس طرح حیاتیاتی ارتقاء کے حصہ اول میں کیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page