عقیدہ اور استدلال
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب کے مطالعہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو عام طور پر غیبیات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ وہ عقائد ہیں جو ہماری محسوس دنیا سے ماورا ہیں۔ یعنی خدا اور فرشتوں کا وجود، وحی کی حقیقت، جنت اور دوزخ کا عقیدہ وغیرہ۔ مذہب کے اس دوسرے پہلو میں براہ راست شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس اعتبار سے مذہب کا مطالعہ اس منطقی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا جس کو شواہد کی بنیاد پر استنباط کہا جاتا ہے۔ یعنی وہی منطقی اصول جس کو علما ارتقاء اپنے نظریہ کے دوسرے پہلو کے مطالعہ میں استعمال کرتے ہیں۔ اس تجزیہ کی روشنی میں دیکھتے تو مذہب اور سائنس دونوں کا معاملہ بالکل یکساں ہے۔ دونوں ہی میں دو الگ الگ حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو علمی قطعیت ( scientific certainty) پر قائم ہے اور جس میں براہ راست استدلال ممکن ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جو علمی استنباط (scientific inference) پر مبنی ہے اور جس کو ثابت کرنے کے لیے صرف بالواسطہ استدلال کا اصول استعمال کیا جاتا ہے۔ اس علمی تقسیم کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ پروفیسر بیڈھم کا غیر ضروری احساس کمتری اس لیے ہے کہ وہ مذکورہ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو گڈ مڈ کر رہے ہیں۔ اور غیر صحیح تقابل کی غلطی میں مبتلا ہیں۔ وہ سائنس کے پہلے جزء کا مقابلہ مذہب کے دوسرے جزء سے کر رہے ہیں اور مذہب کے دوسرے جزء کو سائنس کے پہلے جزء کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں۔ اس غیر صحیح تقابل نے وہ صورت پیدا کی ہے جو ان کے مقالہ میں نظر آتی ہے۔ اگر پروفیسر موصوف سائنس کے پہلے جزء کا مقابلہ مذہب کے پہلے جزء سے کریں اور اسی طرح سائنس کے دوسرے جزء کو مذہب کے دوسرے جزء کی روشنی میں دیکھیں تو ان کا احساس کمتری ختم ہو جائے۔ وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ خالص اصولی اعتبار سے دونوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader