عقیدہ اور استدلال
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
درمیان کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ سائنس کے دونوں اجزاء میں دو الگ الگ طرز استدلال استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنس کے پہلے جزء میں جو استدلال مستعمل ہے وہ مذہب کے بھی پہلے جزء میں قابل حصول ہے۔ اسی طرح سائنس کے دوسرے جزء میں جو استدلال استعمال ہوتا ہے وہی مذہب کے دوسرے جزء میں بھی عین ممکن ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف برٹرینڈ رسل جیسے شخص نے کیا ہے جو فلسفۂ الحاد کا امام سمجھا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے میں عیسائی کیوں نہیں : Why I am not a Christian? اس کتاب کے آغاز میں برٹرینڈ رسل نے اس پر بحث کی ہے کہ معقول استدلال کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میرا ذاتی عقیدہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام بڑے مذاہب بدھ ازم ، ہندوازم ، مسیحیت اور اسلام غلط اور بے حقیقت ہیں۔ منطقی طور پر ان کی معقولیت کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔ جولوگ مذہب کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اس کو اپنی قومی روایات کے زور پر اختیار کیے ہوئے ہیں ، نہ کہ دلائل کے زور پر۔ تاہم برٹرینڈ رسل نے اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل مذہب کے دلائل میں سے ایک دلیل ایسی ہے جو خالص منطقی یا غیر علمی نہیں۔ میری مراد اس چیز سے ہے جس کو نظم سے استدلال کہا جاتا ہے۔ تاہم اس دلیل کو ڈارون نے رد کر دیا ہے : There is one of these arguments which is not purely logical. I mean the argument from design. This argument, however, was destroyed by Darwin. برٹرینڈ رسل کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے وجود پر اس طرح استدلال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں جب نظم ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک ناظم ہو۔ یعنی جب ڈیزائن ہے تو ڈیزائنر کا ہونا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader