Urdu book · فکر اسلامی

تعارف مسئلہ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

بنا دیتی ہے۔ اس لیے اس مشکل کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو غیر معمولی یقین اور غیر معمولی جرات کا سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہوں۔ اس معاملہ کی ایک سادہ مثال لیجئے۔ میری گفتگو ایک مسلم دانشور سے ہوئی۔ انھوں نے شکایت کی کہ آپ اپنی تحریروں میں ہمیشہ ایک طرفہ بات کرتے ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور تعصب ہو رہا ہے۔ مگر آپ کبھی اس کے خلاف نہیں لکھتے۔ مجھے تو آپ کی باتیں خیالی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے سرسید احمد خاں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ اس دور میں سرسید ہی ایک ایسے شخص تھے جنھوں نے مسلمانوں کی سچی رہنمائی کی۔ میں نے کہا کہ آپ ہمارے پیغام کو نہیں سمجھے۔ مزید یہ کہ آپ سرسید کی تعریف کرتے ہیں، مگر آپ سرسید کو بھی نہیں سمجھ سکے۔ آپ جانتے ہیں کہ سرسید کا زمانہ وہ ہے جب کہ انگریز اس ملک پر حکومت کرتا تھا۔ اس زمانہ کے بیشتر لیڈر انگریزوں کو اسلام کا اور مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک بتاتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انگریزوں نے مسلمانوں کو ہر اعتبار سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ انگریزوں کو اس ملک سے نکالا جائے۔ اس سیاسی مسئلہ کو حل کیے بغیر مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ مگر سرسید نے ان صحیح یا غلط مظالم کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ انگریزوں کے خلاف انھوں نے کوئی احتجاجی تحریک نہیں چلائی، حتیٰ کہ انگریزوں کو ملک بدر کرنے کی تحریک میں بھی وہ شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔ سرسید کی ترجمانی کرتے ہوئے حالی نے اپنی مسدس میں یہ شعر کہا: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اگرچہ ہندوستان میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page