Urdu book · فکر اسلامی

عقیدہ اور استدلال

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی لازمی ہے۔ برٹرینڈ رسل اعتراف کرتا ہے کہ یہ طریق استدلال اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی طریق استدلال ہے جس کو سائنسی نظریات کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اس اعتراف کے باوجود برٹرینڈ رسل یہ کہہ کر اس کو قبول نہیں کرتا کہ ڈارونزم نے اس کو رد کر دیا ہے۔ مگر یہ سراسر ایک بے بنیاد بات ہے۔ کیوں کہ ڈارون کے نظریہ کا تعلق خالق (creator) کے وجود سے نہیں ہے بلکہ خالق کی تخلیق (creation) کے عمل سے ہے۔ ڈارونزم کا خلاصہ یہ ہے کہ مختلف انواع جو دنیا میں دکھائی دیتی ہیں وہ الگ الگ تخلیق نہیں کی گئی ہیں بلکہ ایک ہی نوع لمبے ارتقائی عمل کے درمیان مختلف انواع میں تبدیل ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اس نظریہ کا کوئی تعلق خدا کے وجود یا عدم وجود سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق عمل تخلیق سے ہے، نہ کہ کارساز تخلیق سے۔ یعنی پہلے اگر یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے ہر نوع کو الگ الگ پیدا کیا ہے تو اس کو ماننے کی صورت میں اب یہ عقیدہ ہو جائے گا کہ خدا نے ایک ابتدائی نوع ایسی پیدا کی جس کے اندر امکانی طور پر بے شمار انواع میں تقسیم ہونے کی صلاحیت تھی ۔ اور پھر اس نے اس کے موافق کائنات میں ایک نہایت محکم فطری پر اس جاری کر دیا۔ اس طرح لمبے پر اس کے دوران ابتدائی نوع اپنے امکانات (potential) کو ظاہر کرتی ہوئی بے شمار انواع میں تبدیل ہو گئی ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ ارتقاء ذات خداوندی کا مطالعہ نہیں ہے بلکہ وہ صرف اس بات کا مطالعہ ہے کہ خدا نے اپنی قدرت کو کس طرح عالم کائنات میں ظاہر کیا ہے ۔ چنانچہ خود ڈارون نے اپنی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species) کے آخر میں یہ الفاظ درج کیے ہیں: زندگی کے اس نقطہ نظر میں بڑی عظمت ہے کہ اپنی مختلف طاقتوں کے ساتھ ابتداءً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page