Urdu book · فکر اسلامی

عقیدہ اور استدلال

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

خالق نے زندگی کو ایک یا کئی شکلوں میں وجود دیا۔ اور اس اثناء میں جب کہ یہ سیارہ کشش ثقل کے مقرر قانون کے تحت گردش کر رہا تھا، اتنے زیادہ سادہ آغاز سے لادعداد انتہائی خوبصورت اور عجیب صورتیں بن کر تیار ہو گئیں: حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں جو نئے عالمی حقائق دریافت ہوئے ہیں انھوں نے منطق کی دنیا میں ایک انقلاب عظیم برپا کر دیا ہے۔ اب مذہبی استدلال اور علمی استدلال (scientific argument) کا وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو بیسویں صدی سے پہلے خلاف واقعہ طور پر فرض کر لیا گیا تھا۔ اب استدلال کے اعتبار سے سائنس کا معاملہ بھی ٹھیک اسی مقام پر پہنچ چکا ہے جو پہلے صرف مذہب کے لیے سمجھا جاتا تھا۔ نیوٹن (1642-1727) نے خصوصی طور پر نظام شمسی کا مطالعہ کیا۔ اس نے سورج کے گرد سیاروں کی گردش کے قوانین معلوم کیے۔ اس کا یہ مطالعہ زیادہ تر آسمانی اجرام (astronomical bodies) تک محدود تھا۔ اس کو دوسرے لفظوں میں عالم کبیر (macro-world) کا مطالعہ کہہ سکتے ہیں۔ عالم کبیر میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ چیزوں کو دیکھا اور ناپا اور تولا جا سکے۔ اس بنا پر فوری تاثر کے تحت بہت سے لوگوں کا یہ ذہن بن گیا کہ حقیقت قابل مشاہدہ ہے اور صحیح اور جائز استدلال وہی ہے جو مشاہداتی دلائل پر مبنی ہو۔ اسی تصور کے تحت وہ فلسفہ جسے کو عام طور پر پازیٹیوزم (positivism) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page