عقیدہ اور استدلال
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر بیسویں صدی کے رُبع اول میں وہ حقائق دریافت ہوئے جنھوں نے مذکورہ ابتدائی نظریات کا جڑ سے خاتمہ کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالم ظاہر کے اندر زیادہ بڑے پیمانے پر ایک عالم غیر ظاہر موجود ہے۔ اس عالم غیر ظاہر کو سمجھنا یا اس پر دلیل قائم کرنا صرف بالواسطہ انداز میں ممکن ہے۔ یعنی کسی چیز کے اثرات (effects) کو دیکھ کر اس چیز کی موجودگی کا علم حاصل کرنا۔ اس انکشاف نے سارے معاملے کو بدل دیا۔ انسانی علم کی رسائی جب تک عالم کبیر تک محدود تھی وہ مذکورہ غلط فہمی میں مبتلا رہا۔ مگر جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو علمی صورتحال اپنے آپ بدل گئی۔ اب معلوم ہوا کہ براہ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آرہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباط یا بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابل عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رُنجن (Wilhelm Conrad Rontgen) نے 1895ء میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثر (effect) ظاہر ہو رہا ہے جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابل مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رُنجن نے اس کا نام ایکسکرے (X-rays) رکھ دیا۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، جلد 19، صفحہ 1058) بیسویں صدی میں ایکسریز جیسی بہت سی چیزیں دریافت ہوئیں جو براہ راست انسانی مشاہدہ میں نہیں آرہی تھیں۔ تاہم ان کے اثرات جو علم میں آئے ان کی بنا پر ان کے وجود سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader