Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

انکار کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ ان جدید تحقیقات کے نتیجہ میں جس طرح علم کے دوسرے شعبوں میں تبدیلیاں ہوئیں ، اسی طرح اس نے علم منطق میں بھی تبدیلیاں کیں۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا ، وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال ۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید دریافت شدہ نظریات ثابت کیے جا رہے تھے ، عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقائد بھی پوری طرح ثابت ہورہے تھے۔ اس کے بعد وہ استدلالی فرق ختم ہو گیا جو پہلے دونوں کے درمیان پایا جاتا تھا۔ ایک سوال کا جواب مقالہ نگار نے آخر میں لکھا ہے کہ میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ بہت سے ممتاز اور فکرمند ارباب علم ہیں جو اس کو ناممکن پاتے ہیں کہ وہ میرے مذہبی عقائد سے اتفاق کریں ، اگرچہ وہ اس موضوع کو انتہائی سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ لے رہے ہوتے ہیں۔ اور میں اس بات کا اقرار کروں گا کہ دنیا میں اتنی زیادہ برائیاں اور اتنی زیادہ مصیبتیں اس عقیدہ کے خلاف شہادت دیتی ہیں کہ یہاں کوئی قادر مطلق خدا ہے جو اپنی مخلوقات سے محبت کرتا ہے : And I have to acknowledge that the existence of so much evil and suffering in the world counts against any vision of an all-powerful and loving God. (p.7)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page