ایک سوال کا جواب
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کہوں گا کہ برائی ایک اضافی لفظ ہے۔ کوئی بظاہر برائی صرف اس وقت برائی ہے جب کہ اس کی توجیہ نہ کی جاسکتی ہو۔ ڈاکٹر ایک مریض کے جسم پر نشتر چلاتا ہے۔ حج ایک مجرم کو سولی پر چڑھانے کا حکم نافذ کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک ظلم ہے۔ مگر ہم اس کو برا نہیں کہتے۔ کیوں۔ صرف اس لیے کہ ہمارے پاس ڈاکٹر اور حج کے فعل کی معقول توجیہ موجود ہے۔ یہی معاملہ اس برائی کا ہے جس کی طرف مقالہ نگار نے اشارہ کیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہاں جو برائی ہے وہ صرف انسانی معاشرہ میں ہے، ساری کائنات میں نہیں ہے۔ انسان کی محدود دنیا کو چھوڑ کر جو وسیع کائنات ہے، وہ انتہائی معیاری ہے۔ وہ مکمل طور پر نقص اور خرابی سے پاک ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسانی دنیا میں کیوں برائی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کو جاننا ہوگا۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ ہی وہ واحد کسوٹی ہے جس پر جانچ کر اس کی نوعیت کو متعین کیا جاسکتا ہے۔ خدا کا تخلیقی منصوبہ جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کو آزمائش (ٹسٹ) کے لیے رکھا گیا ہے۔ اسی آزمائش کے ریکارڈ کے مطابق ہر آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ کیا جائے گا۔ آزمائش کی اس مصلحت ہی کی بنا پر آدمی کو یہاں آزادی دی گئی ہے۔ اگر آدمی کو آزادی نہ دی جائے تو آزمائش کی بات بالکل بے معنی ہو جائے۔ مذکورہ برائی دراصل اسی آزادی کی قیمت ہے۔ خدا انسانوں کا انتخاب کرنا چاہتا ہے جو آزادی پانے کے باوجود با اصول اور پابند زندگی (disciplined life) گزاریں۔ ایسے انسانوں کے انتخاب کے لیے بہرحال آزادی کا ماحول بنانا ہوگا۔ اگرچہ آزادی کے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader