اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام دور جدید میں موجودہ زمانہ کے ماہرین علم الانسان عام طور پر مذہب کا مطالعہ ایک سماجی مظہر کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ بات اسلام کے لیے درست نہیں۔ اسلام سماجی حالات کی پیداوار نہیں ہے۔ اسلام ایک الہامی مذہب ہے۔ اور اس بنا پر وہ ابدی طور پر ایک مقدس مذہبی نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لیے اس کی اس مخصوص نوعیت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے۔ پھر بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا انطبا ق کس طرح ہوگا۔ اسلام کو تغیر پذیر دنیا کے مطابق کس طرح بنایا جائے۔ اس کا جواب قرآن اور دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں، مثلاً بائبل، کا مطالعہ کر کے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح لاتعداد تفصیلات کا مجموعہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام زیادہ تر بنیادی قدروں کا مجموعہ ہے اور زمانی تبدیلی کا ٹکراؤ ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ پیش آتا ہے، نہ کہ بنیادی اقدار کے ساتھ۔ مثلاً اسلام میں توحید کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور توحید ایک اصول کی حیثیت سے بلاشبہ ایک ابدی حقیقت ہے۔ اسی طرح اسلام میں بعض سنگین سماجی جرائم کے لیے مانع سزا (deterrent punishment) کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس میں حالات کی تبدیلی سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کم از کم اب تک ایسا فرق حقیقی طور پر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ آج بھی سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے مانع سزاؤں کے اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader