اسلام دورِ جدید میں
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح (reform) کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ اس سلسلہ میں جو مثالیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق خود اسلام سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے اضافے سے ہے۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اپنے اضافے سے اسلام کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ خود اسلام میں اصلاح یا نظر ثانی کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں مسلم علما کے ایک طبقہ نے مغربی علوم کو پڑھنے کو غیر اسلامی قرار دیا ۔ یہ ان علما کا غلط فیصلہ تھا۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ یہی معاملہ جمہوریت کا ہے ۔ بعد کے زمانہ میں کچھ مسلم قوموں میں بادشاہت کا نظام قائم ہو گیا۔ آج بھی کئی مسلم ملکوں میں ایسا ہی سیاسی نظام پایا جاتا ہے۔ مگر وہ کسی بھی درجہ میں اسلامی تعلیمات کا نتیجہ نہیں ۔ وہ ایک سیاسی بگاڑ ہے جو بعد کو مسلم ملکوں میں پیش آیا۔ اسلام کا اصل نمونہ وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں قائم ہوا تھا۔ اور یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کے اس ابتدائی دور میں اعلیٰ ترین جمہوری نظام قائم تھا۔ جس کو قرآن میں شورائی نظام کہا گیا ہے ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار بادشاہت کو ختم کر کے جمہوریت کی بنیاد پر سیاست کا نظام قائم کیا۔ اس تاریخی حقیقت کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصلاح کی ضرورت ثابت کرنے کے لیے جو مثالیں پیش کی جاتی ہیں ان کا تعلق اسلام میں اصلاح سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے عملی انحرافات میں اصلاح سے ہے۔ اس قسم کا عمل یقینی طور پر ضروری ہے۔ مگر ایسا کرنا زیادہ صحیح لفظوں میں، خارجی اور اجنبی اثرات سے اسلام کو پاک کرنا ہوگا نہ کہ خود اسلام کی اصلاح کرنا۔ تاہم زمانہ کی تبدیلی سے حقیقی اسلام کے لیے بھی بعض اوقات مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader