Urdu book · فکر اسلامی

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ مسائل ہیں جن کے لیے اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر یہاں اجتہاد سے مراد اسلام کے حکم کا دوبارہ انطباق (reapplication) ہے، نہ کہ اسلام کے اصل احکام میں تبدیلی یا اصلاح۔ مثلاً دورِ اول کے اسلام میں تاریخوں کے تعین کے لیے چاند کی رویت پر بنیاد رکھی گئی تھی ۔ اب فلکیاتی مشاہدہ کے نئے علمی ذرائع در یافت ہونے کے بعد رصد گاہ کے ذریعہ کلنڈر کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا یہ اسلام کی اصلاح یا اس کو اپ ڈیٹ کرنا نہیں ہوگا بلکہ وہ اسلام کے حکم کا از سر نو انطباق ہوگا۔ اس قسم کی مثالوں سے اسلام میں نظر ثانی کے نظریہ کو ثابت کرنا درست نہیں۔ عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کو اکثر اس سلسلہ میں بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ قدیم حالات کے زیر اثر اسلام میں عورت کا سماجی رتبہ کم کیا گیا تھا۔ اب نئے حالات میں ضرورت ہے کہ اسلام کی اس غلطی کو درست کیا جائے۔ مگر یہ یقینی طور پر ایک غلط فہمی کا کیس ہے۔ اس موضوع پر میں نے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے جو خاتونِ اسلام کے نام سے چھپ چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ عورت کے بارے میں اسلام کا جو حکم ہے اس کا تعلق ایک عملی ضرورت سے ہے، نہ کہ ایک جنس کو برتر اور دوسری جنس کو کم تر قرار دینے سے۔ اس معاملہ میں جدت پسند حضرات کا نقطہ نظر مختصر طور پر equal so equal ہے ۔ جب کہ اسلام کا اصول اس معاملہ میں یہ ہے کہ: equal but different اس معاملہ میں اسلام کی پوزیشن یہ ہے کہ جہاں تک عزت اور احترام کا سوال ہے، اس اعتبار سے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں۔ حقوق کے معاملہ میں بھی دونوں کے درمیان برابری کا اصول قائم کیا گیا ہے۔ تاہم عملی زندگی میں دونوں کا مقامِ عمل (workplace)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page