تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی حکومت کے پیدا کردہ مسائل ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ اور اسی وقت یہاں مواقع کار بھی موجود ہیں۔ تم لوگ مسائل کو نظر انداز کرو، اور عمل کے مواقع کو استعمال کر کے ترقی حاصل کرو۔ آپ سرسید کی شخصی تعریف کر رہے ہیں۔ مگر سرسید کے پیغام اور اس کے طریق کار کو دوبارہ زندہ کرنے کے مخالف ہیں۔ آپ کا یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے۔ یہی عام انسانی حالت ہے۔ لوگ ماضی کی ”تحریک سرسید“ کی تعریف کرتے ہیں، مگر وہ حال کی ”تحریک سرسید“ کے مخالف بن جاتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے خلاف زبردست غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی آخری ہدیہ ہے کہ دین رحمت لوگوں کی نظر میں دین تشدد بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اپنے بارے میں فرمایا کہ میں نبی رحمت (نَبِيُّ الرَّحْمَةِ) ہوں (مسند احمد، حدیث نمبر 23443)۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی جو نمائندگی کی ہے، اس کے مطابق آپ لوگوں کو تشدد کے پیغمبر (نَبِيُّ العُنْف) دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو اسلام کے خلاف سازش یا دشمنوں کا پروپیگنڈا کہنا شروع کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سنگین مسئلہ کا بھی نہایت گہرا تعلق اسلام کی تشریح نو سے ہے۔ یہ مسئلہ خود مسلمانوں کی متشددانہ تعبیرات کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔ جب تک مجتہدانہ انداز میں اسلام کی از سر نو تشریح نہ کی جائے، نہ مسلمانوں کا متشددانہ عمل ہوگا اور نہ ایسا ہوگا کہ اسلام کے خلاف لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔ اس مسئلہ کا گہرائی کے ساتھ نیز منصفانہ انداز میں مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ وہ کسی سازش کی بنا پر نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ اس کی پیدائش کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی جو تشریح نو درکار تھی اس کو پیش کرنے میں ہمارے علما و مفکرین نا کام رہے۔ اسلام جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader