Urdu book · فکر اسلامی

تصوف: مثبت اور منفی پہلو

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

تلاش کی چیز بنا دیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نظامی طرزِ فکر داخلی روحانیت سے محروم ہو گیا اور روحانی طرزِ فکر خارجی رہنمائی سے۔ اسلام اس معاملہ میں انسان کو صحیح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مسافر حق کو وہ ایک طرف بنیادی نشان راہ دیتا ہے جو گویا صحت سفر کی ضمانت ہے۔ دوسری طرف وہ اس کی فطرت صحیحہ کو جگاتا ہے جو ان نشانات راہ کی اتباع کرتے ہوئے وصول الی اللہ کی آخری منزل تک پہنچ سکے۔ تصوف (یا طریقت) اپنی صحیح صورت میں دین کے نصف ثانی کا نمائندہ ہے اور فقہ اس معاملہ میں دین کے نصف اول کا نمائندہ۔ الگ الگ دونوں ناتمام ہیں اور باہم مل کر دونوں وہ کل بن جاتے ہیں جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ فن تصوف پر سب سے زیادہ مستند لٹریچر فارسی زبان میں ہے۔ اردو میں بھی اب کافی کتابیں آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ عربی، انگریزی، جرمن اور فرینچ میں نہایت قیمتی کتابیں اس موضوع پر موجود ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں تصوف (Islamic Mysticism) پر نہایت جامع اور معلوماتی مقالہ شامل کیا گیا ہے۔ تصوف کے معنی کیا ہیں اور یہ کس لفظ سے بنا ہے، اس میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اس کا ماخذ صوف (کمبل) ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ صفہ (چبوترہ) سے بنا ہے۔ کسی کے نزدیک وہ صفایا صف سے ماخوذ ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ تھیوسوفی (theosophy) کی تعریب ہے۔ یہ اصلاً ایک یونانی لفظ ہے۔ اور اس کے معنی حکمت الہی کے ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک اول الذکر رائے زیادہ قرین قیاس ہے۔ قرآن میں خدا کو خوف اور محبت دونوں کا سرچشمہ بتایا گیا ہے۔ تاہم صوفیا نے زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page