تصوف: مثبت اور منفی پہلو
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
زور محبت کے پہلو پر دیا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کا مآخذ متعدد آیتیں ہیں، مثلاً یُحِبُّہُمۡ وَیُحِبُّونَہٗ (5:54)۔ یعنی، خدا ان کو محبوب رکھتا ہے اور وہ خدا کو محبوب رکھتے ہیں۔ خدا کی محبت کے پہلو پر زور دینے ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ صوفیا کے درمیان انسانوں سے محبت کا نظریہ ایک مطلق اصول کے طور پر پیدا ہوا۔ وہ نفرت کے بجائے شفقت، جنگ کے بجائے امن، ٹکراؤ کے بجائے مصالحت پر آخری حد تک زور دینے لگے۔ ان کا یہ نظریہ انسانی معاشرہ کے لیے غیر معمولی رحمت ثابت ہوا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جس معاشرہ میں صوفیا کا زور بڑھا وہاں انسانی لڑائیاں بھی اپنے آپ ختم ہو گئیں۔ نافع السالکین جو مشہور صوفی خواجہ سلیمان تونسوی کے ملفوظات کا مجموعہ ہے اور) تصوف پر ایک مستند کتاب ہے، اس میں چشتی صوفیا کے بارے میں لکھا ہے کہ درطریق ما هست کہ مسلمان و ہندو صلح باید داشت (صفحہ 153)۔ یعنی، ہمارے سلسلہ تصوف کا اصول یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو سے صلح رکھی جائے۔ بابا فرید گنج شکر ایک ممتاز صوفی گزرے ہیں۔ ان کی حکایات میں آتا ہے کہ ایک بار ان کا ایک مرید قینچی کا تحفہ لایا۔ اس کے شہر میں قینچی بنتی تھی اس لیے اس نے اپنے شہر کی صنعت کے طور پر قینچی کا تحفہ شیخ کی خدمت میں پیش کیا۔ شیخ نے مرید سے کہا: یہ کون سا تحفہ تم ہمارے لیے لائے۔ قینچی تو کاٹنے کا آلہ ہے۔ جب کہ ہمارا کام جوڑنا ہے۔ اگر تم کو تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی تاگا کا تحفہ لاتے ۔ کیوں کہ قینچی کاٹتی ہے۔ مگر سوئی کٹے ہوئے کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ علامہ اقبال تصوف سے کافی متاثر تھے۔ تصوف کے بارے میں انھوں نے نظم اور نثر دونوں میں بہت سی باتیں کہی ہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے: ہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہور ہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader